پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آ گیا ہے جب پاکستان مسلم لیگ نون (پی ایم ایل-ن) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے ٹی وی پر گفتگو کے دوران انتظامی یونٹس بنانے کی حمایت کا اعلان کیا۔ سیاسی حریف ہونے کے باوجود دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ ملک میں بہتر گورننس کے لیے چھوٹے صوبے ناگزیر ہیں۔

بڑے صوبوں جیسے کہ پنجاب میں آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے یہ اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔ جنوبی پنجاب اور ہزارہ کےعلاقوں سے طویل عرصے سے الگ صوبے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں، جہاں کے باسیوں کا موقف ہے کہ صوبائی دارالحکومت تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے مسائل حل نہیں ہوتے۔

آپ کے لیے نئے صوبوں کی اہمیت

اگر آپ لاہور یا کراچی جیسے بڑے شہروں سے دور کسی پسماندہ علاقے میں رہتے ہیں، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ چھوٹے سے کام کے لیے بھی صوبائی دارالحکومت کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ انتظامی اکائیاں بننے سے ان مشکلات میں کمی آ سکتی ہے اور فیصلے مقامی سطح پر تیزی سے ہوں گے۔

جن اہم علاقوں کو انتظامی طور پر تقسیم کرنے پر بحث جاری ہے ان میں شامل ہیں:
- جنوبی پنجاب، جہاں الگ سیک्रेटریٹ کا مطالبہ پرانا ہے۔
- خیبر پختونخوا کا ہزارہ ڈویژن، جو اپنے انتظامی تشخص کی جنگ لڑ رہا ہے۔
- سندھ میں انتظامی اور شہری بنیادوں پر تقسیم کی باتیں بھی زیر غور ہیں۔

تاہم، ٹی وی پر دی جانے والے بیانات کو عملی شکل دینے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ سیاسی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے اس آئینی عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانا آسان نہیں ہوگا۔

اس دوران شہریوں کو کیا کرنا چاہیے

عوام کو فوری طور پر اس بحث کے بجائے اپنے مقامی اضلاع میں فنڈز کے استعمال پر نظر رکھنی چاہیے۔ اپنے منتخب کردہ اراکین اسمبلی سے ترقیاتی کاموں کا حساب مانگیں تاکہ بنیادی سہولتیں آپ کی دہلیز پر مل سکیں۔

اگلی نظر کن چیزوں پر ہونی چاہیے

آنے والے ہفتوں میں اس بات پر نظر رکھیں کہ آیا یہ بیانات صرف سیاسی بیان بازی ہیں یا پارلیمنٹ میں کوئی باقاعدہ بل پیش کیا جاتا ہے۔ نئے صوبوں کے درمیان مالیاتی وسائل کی تقسیم اس پورے عمل کا سب سے بڑا چیلنج ہوگی۔