لاہور میں یوم آزادی کے موقع پر پاکستان ملی لیبر فیڈریشن (پی ایم ایل ایف) کے زیراہتمام ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے ملازمین، مزدور رہنماؤں اور سینکڑوں کارکنان نے بھرپور شرکت کی۔ پی ایم ایل ایف لاہور ریلی کا بنیادی مقصد محنت کشوں کو درپیش معاشی مسائل اجاگر کرنا اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔ شرکاء نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ملازمت کے عدم تحفظ اور مزدوروں کے استحصال کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مزدور رہنماؤں کے مطالبات اور معاشی چیلنجز

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مختلف ٹریڈ یونینز کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں دیہاڑی دار طبقہ اور تنخواہ دار ملازمین دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نجی کارخانوں، فیکٹریوں اور تجارتی اداروں میں کم از کم اجرت کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ملک میں لاکھوں مزدور اب بھی بغیر کسی تقرر نامے، سوشل سیکیورٹی اور اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای اوبی آئی) کی رجسٹریشن کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے حفاظتی انتظامات کو بہتر بنایا جائے اور کام کی جگہوں پر حادثات کی صورت میں متاثرہ خاندانوں کو فوری معاوضہ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل آزادی اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک محنت کش طبقہ غربت اور معاشی استحصال سے نجات حاصل نہیں کر لیتا۔

اہم مطالبات اور تجاویز

  • تمام چھوٹے اور بڑے صنعتی اداروں میں کم از کم سرکاری اجرت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
  • تمام ورکرز کو ای اوبی آئی اور سوشل سیکیورٹی کے اداروں میں رجسٹر کیا جائے۔
  • سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز کے نظام کو ختم کرکے مستقل ملازمتیں دی جائیں۔
  • مزدوروں کے لیے ہیلتھ انشورنس اور تحریری ملازمت کے معاہدے لازم قرار دیے جائیں۔

محنت کشوں کے لیے اگلا لائحہ عمل

اگر آپ کو بھی اپنے ادارے میں استحصال کا سامنا ہے یا قانونی حقوق نہیں مل رہے تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر یونین سازی کریں اور لیبر لاز کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ رکھیں۔ کسی بھی ناانصافی کی صورت میں ضلعی لیبر دفتر یا مزدور یونینز سے رجوع کریں تاکہ اجتماعی آواز اٹھائی جا سکے۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ پنجاب حکومت مزدوروں کے ان مطالبات پر کیا عملی اقدامات کرتی ہے اور آیا لیبر ڈپٹی ڈائریکٹرز فیکٹریوں میں انسقاپشن بڑھاتے ہیں یا نہیں۔ مزدور تنظیمیں آنے والے ہفتوں میں مزید احتجاجی مظاہروں کا ارادہ بھی رکھتی ہیں۔