لاہور میں صحافی پر تشدد کا معاملہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان میں میڈیا کے نمائندے کتنی غیر محفوظ صورتحال میں کام کر رہے ہیں۔ احتجاج کی کوریج کے دوران صحافی ناطق ریحان پر پولیس کے تشدد کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، فیصل کامران نے چار اہلکاروں کو معطل کر کے ان کے خلاف محکمانہ انکوائری کا حکم دیا ہے۔

اگرچہ ان اہلکاروں کی معطلی عوامی دباؤ کے بعد ایک روایتی ردعمل ہے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا صرف معطلی ہی کافی ہے؟ عام شہریوں کے لیے یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خود قانون کی دھجیاں اڑانے میں ملوث ہیں۔

اہم حقائق

  • واقعہ: لاہور میں احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافی ناطق ریحان پر پولیس کا تشدد۔
  • کارروائی: ملوث چار پولیس اہلکاروں کی فوری معطلی۔
  • سرکاری اقدام: ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے محکمانہ انکوائری شروع کر دی ہے۔
  • کراچی کا واقعہ: اسی طرح کراچی کے گزری تھانے میں شہریوں سے 30 ہزار روپے رشوت لینے والے تین اہلکار بھی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معطل کیے گئے۔

پولیس تشدد کا مطلب کیا ہے؟

جب پولیس میڈیا کے نمائندوں پر ہاتھ اٹھاتی ہے، تو یہ صرف ایک صحافی پر حملہ نہیں ہوتا بلکہ یہ عوام کے جاننے کے حق پر حملہ ہوتا ہے۔ صحافی عوام کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں۔ جب انہیں ڈرایا دھمکایا جائے گا یا تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا، تو سچائی عوام تک نہیں پہنچ سکے گی۔

کراچی میں رشوت خوری کے واقعے کی طرح، لاہور کا یہ واقعہ بھی تبھی سامنے آیا جب معاملہ میڈیا کی زینت بنا۔ سوال یہ ہے کہ کتنے ایسے واقعات ہوتے ہوں گے جن کی ویڈیو نہیں بنتی اور وہ دب جاتے ہیں؟

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ پولیس کے کسی غیر قانونی رویے یا تشدد کے گواہ بنتے ہیں، تو درج ذیل اقدامات کریں:

  1. دستاویزی ثبوت: اگر آپ کے پاس موبائل ہے تو محفوظ طریقے سے ویڈیو بنائیں، لیکن اپنی جان خطرے میں نہ ڈالیں۔
  2. شکایت کا اندراج: پنجاب پولیس کے آن لائن پورٹل پر شکایت درج کریں یا متعلقہ ایس پی آفس میں تحریری درخواست جمع کروائیں۔
  3. فالو اپ: محکمانہ انکوائری کا پیچھا نہ چھوڑیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میڈیا کا شور تھمتے ہی یہ انکوائریاں سرد خانے کی نذر ہو جاتی ہیں۔

آگے کیا ہو گا؟

دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ چاروں اہلکار صرف کچھ دن کے لیے معطل رہیں گے اور پھر کسی دوسرے ضلع میں تعینات کر دیے جائیں گے، یا انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ جب تک پولیس کے اندر احتساب کا شفاف نظام نہیں بنتا اور اہلکاروں کی تربیت میں 'عوامی رویہ' شامل نہیں کیا جاتا، تب تک ایسی معطلیاں محض ایک وقتی مرہم سے زیادہ کچھ نہیں ہوں گی۔