بدھ 5 اگست 2026 کو لاہور اور کراچی میں ہونے والے ایک شدید پولیس کریک ڈاؤن میں لاہور اور کراچی کے مختلف حصوں سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیس سے زائد کارکنوں، وکلاء اور مقامی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔ یہ کارروائیاں اس وقت عمل میں آئیں جب جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے ملک کے بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ٹریفک کی روانی بحال کرنے اور غیر قانونی اجتماعات کو روکنے کے بہانے سے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور متعدد افراد کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں دونوں شہروں کے اہم ترین حصوں میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایوان عدل لاہور کے باہر پولیس کی کارروائی

لاہور میں کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچی جب لاہور بار ایسوسی ایشن اور پی ٹی آئی سے وابستہ وکلاء کی کال پر ایوان عدل کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے وکلاء اور سیاسی کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے نفری طلب کی اور درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔

چشم دید گواہوں کے مطابق پولیس اور وکلاء کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی جس سے عدلیہ کے اطراف کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔ وکلاء رہنماؤں نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے گرفتار ساتھیوں کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کیا ہے بصورت دیگر عدالتوں کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔

کراچی میں ٹریفک معطل اور گرفتارییاں

دوسری جانب 5 اگست 2026 ہی کو کراچی میں بھی پی ٹی آئی کے حامیوں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا۔ ڈاکٹر مسرور سیال اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں نکلنے والی ریلی کی وجہ سے شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام مکمل طور پر جام ہو گیا جس سے مسافر گھنٹوں پھنسے رہے۔

پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے متعدد پرجوش حامیوں کو موقع سے حراست میں لے لیا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ یہ مظاہرے امن و عامہ کی صورتحال کو خراب کرنے اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

  • کریک ڈاؤن کی تاریخ: بدھ، 5 اگست 2026
  • اہم مقامات: ایوان عدل لاہور اور کراچی کی اہم شاہراہیں۔
  • نمایاں گرفتاریاں: ڈاکٹر مسرور سیال سمیت دیگر کارکنان۔
  • بنیادی مطالبہ: سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ لاہور کے وسطی علاقوں یا کراچی کی مصروف شاہراہوں پر سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آئندہ اڑتالیس گھنٹوں کے لیے ٹریفک کی ممکنہ تاخیر اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کو مدنظر رکھیں۔ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور عدالتوں یا پریس کلبز کے اطراف کے راستوں سے بچیں۔

اگر آپ کا کوئی عزیز اس کارروائی میں حراست میں لیا گیا ہے تو فوری طور پر متعلقہ بار ایسوسی ایشن یا پارٹی کے قانونی سیل سے رابطہ کر کے ضمانت کی کارروائی کا آغاز کریں۔ سیاسی اجتماعات کے قریب جانے سے احتیاط برتیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

وکلاء برادری کی جانب سے ہڑتال یا عدالتوں کے بائیکاٹ کے اعلان پر گہری نظر رکھیں۔ سیاسی صورتحال آنے والے دنوں میں مزید کشیدہ ہو سکتی ہے کیونکہ پارٹی قیادت نے ان گرفتاریوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔