پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر کے قتل کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، پولیس نے مقتول کے ڈرائیور اصغر کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ pti leader murder case میں اب تک کی سب سے بڑی پیشرفت سمجھی جا رہی ہے۔ پولیس نے ڈرائیور کا موبائل فون بھی قبضے میں لے لیا ہے تاکہ ڈیٹا اور کال ریکارڈز کا فرانزک تجزیہ کیا جا سکے۔
پی ٹی آئی رہنما قتل کیس میں اہم انکشافات
تحقیقات کے دوران پولیس کو واردات میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل کے حوالے سے بھی ٹھوس شواہد ملے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، قتل کی واردات میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل مرکزی ملزم زمان عرف کگی بٹ کے بھائی شہزاد بٹ کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔ یہ انکشاف ملزمان کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اب ڈرائیور کے موبائل ڈیٹا اور موٹرسائیکل کی ملکیت کے شواہد کو آپس میں جوڑ رہے ہیں۔ پولیس کا ماننا ہے کہ ڈرائیور کے بیانات سے واردات کی منصوبہ بندی اور اس میں ملوث دیگر سہولت کاروں تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔
تفتیش کا اگلا مرحلہ
کیس کی تفتیش اب اپنے اہم موڑ پر ہے جہاں پولیس مرکزی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اس بات کا تعین کر رہی ہیں کہ آیا اس واردات کے پیچھے کوئی منظم گروہ ملوث ہے یا یہ ایک ٹارگٹڈ کارروائی تھی۔ عدالت میں چالان پیش کرنے کے لیے ڈیجیٹل شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات کو یکجا کیا جا رہا ہے۔
عوام کے لیے ہدایات
اس کیس سے متعلق مزید پیشرفت پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی مرکزی ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے پولیس کی جانب سے کوئی بڑا اعلان کیا جائے گا۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف مستند ذرائع سے ملنے والی معلومات پر ہی یقین کریں۔ اگر کسی کے پاس اس واقعے سے متعلق کوئی بھی اہم معلومات ہوں تو اسے قریبی پولیس اسٹیشن سے رابطہ کرنا چاہیے۔
