میلسی میں آن لائن فراڈ کرنے والے ایک بڑے گروہ کے خلاف مقامی حکام نے کارروائی کرتے ہوئے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔

ایس ایچ او ٹبہ سلطان پور رانا ثاقب نذیر کی قیادت میں ہونے والے اس آپریشن میں مقامی پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور ایلیٹ فورس کے دستوں نے حصہ لیا۔ یہ چھاپہ سرکل نمبر 2 کے علاقے میں مارا گیا، جسے اس گروہ کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ یہ کارروائی جنوبی پنجاب میں سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے ایک بڑی کوشش کا حصہ ہے۔

آن لائن فراڈ کے نیٹ ورک کو سمجھیں

یہ گروہ مبینہ طور پر شہریوں کو دھوکہ دینے کے لیے جدید 'سوشل انجینئرنگ' کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا تھا۔ خود کو معروف اداروں کا نمائندہ ظاہر کر کے یہ ملزمان شہریوں سے بینکنگ تفصیلات اور ذاتی ڈیٹا حاصل کر لیتے تھے۔ قانون نافذ کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ اس آن لائن فراڈ نیٹ ورک کی جڑیں صرف ایک ضلع تک محدود نہیں تھیں بلکہ یہ گردونواح کے علاقوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔

  • متاثرہ علاقہ: سرکل نمبر 2، میلسی۔
  • متعلقہ ادارے: مقامی پولیس، ایلیٹ فورس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں۔
  • مرکزی مقصد: گروہ کے اہم ارکان کی گرفتاری اور ڈیجیٹل شواہد کا حصول۔

اگر آپ ہدف بنیں تو کیا کریں؟

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ سے بینک، سرکاری محکموں یا انعامی اسکیموں کے نام پر رابطہ کیا گیا ہے، تو اپنی بینک تفصیلات یا او ٹی پی (OTP) ہرگز شیئر نہ کریں۔ 'پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ' (PECA) کے تحت حکام کو ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل ہے، لیکن آپ کی ہوشیاری ہی آپ کا سب سے پہلا دفاع ہے۔

اگر آپ اس طرح کے اسکام کا شکار ہو چکے ہیں تو فوری طور پر درج ذیل اقدامات کریں:

  1. اپنے بینک کی ہیلپ لائن پر رابطہ کر کے اکاؤنٹ منجمد کروائیں۔
  2. ایف آئی اے (FIA) سائبر کرائم ونگ کے آفیشل پورٹل پر شکایت درج کروائیں۔
  3. ملزمان کی جانب سے استعمال ہونے والے فون نمبرز یا سوشل میڈیا پروفائلز کی پی ٹی اے (PTA) کو رپورٹ کریں۔

آگے کیا ہوگا؟

حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس نیٹ ورک کے ماسٹر مائنڈز تک پہنچنے کے لیے ڈیجیٹل سراغوں کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں گرفتاریوں اور لوٹی گئی رقوم کی برآمدگی کے حوالے سے مزید اپ ڈیٹس متوقع ہیں۔ جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھے گی، حکام کی جانب سے عوام کو ان خاص دھوکہ دہی کے طریقوں سے بچنے کے لیے تفصیلی ایڈوائزری بھی جاری کی جائے گی۔

وہاڑی کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلانات پر نظر رکھیں تاکہ متاثرین کو رقوم کی واپسی یا قانونی مدد کے حوالے سے تازہ ترین معلومات مل سکیں۔