راولپنڈی پولیس نے اسنیپ چیکنگ کے دوران 44 چوری شدہ موبائل فونز برآمد کر لیے ہیں، جبکہ اس کارروائی میں ایک ملزم کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو حسن ابدال میں موبائل شاپ سے چوری کی واردات میں ملوث تھا۔

چوری شدہ موبائل فونز کی برآمدگی کی تفصیلات

پولیس کے مطابق برآمد ہونے والے موبائل فونز کی مالیت لاکھوں روپے ہے۔ یہ کارروائی معمول کی اسنیپ چیکنگ کے دوران عمل میں لائی گئی، جہاں مشکوک سرگرمیوں کی بنیاد پر ملزم کو روکا گیا اور تلاشی کے دوران بڑی تعداد میں ہینڈ سیٹس برآمد ہوئے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ فونز حال ہی میں ایک موبائل شاپ سے چوری کیے گئے تھے۔

اپنا موبائل فون کیسے چیک کریں

اگر آپ نے حال ہی میں کوئی استعمال شدہ فون خریدا ہے یا آپ کو اپنے فون کی حیثیت کے بارے میں شک ہے، تو پی ٹی اے کے سسٹم کے ذریعے اس کی تصدیق کرنا بہت ضروری ہے۔ stolen mobile phones یا چوری شدہ فونز کی تصدیق کے لیے مندرجہ ذیل طریقے استعمال کریں:

  • اپنے موبائل سے *8484# ڈائل کریں۔
  • پی ٹی اے کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر اپنے فون کا 15 ہندسوں والا آئی ایم ای آئی (IMEI) نمبر درج کریں۔
  • گوگل پلے اسٹور سے پی ٹی اے کی 'Device Verification' ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

چوری کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کا موبائل فون چوری ہو جائے تو صرف زبانی شکایت پر اکتفا نہ کریں۔ قریبی پولیس اسٹیشن جا کر فوری طور پر ایف آئی آر (FIR) درج کروائیں۔ اپنے ساتھ موبائل کا اصل ڈبہ اور خریداری کی رسید ضرور رکھیں جس پر آئی ایم ای آئی نمبر درج ہو۔ ایف آئی آر درج کروانے کے بعد پی ٹی اے سے رابطہ کریں تاکہ اس آئی ایم ای آئی کو بلیک لسٹ کروایا جا سکے، جس کے بعد وہ فون پاکستان میں کسی بھی نیٹ ورک پر استعمال نہیں ہو سکے گا۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک تک پہنچا جا سکے جو چوری شدہ مال کو آگے فروخت کرتا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ دکانوں سے سستے داموں موبائل فون خریدنے سے گریز کریں، کیونکہ اکثر ایسے فون چوری شدہ ہوتے ہیں جو آپ کو قانونی مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔