الیکٹرانک فرنٹئیر فاؤنڈیشن (ای ایف ایف) کی جانب سے جاری کردہ ایک انتباہ کے مطابق، مقبول اینرائیڈ ایپس تھرڈ پارٹی اشتہاری ٹولز کے ذریعے صارفین کا عین محل وقوع خاموشی سے جمع اور شیئر کر رہی ہیں۔ پاکستان بھر میں کروڑوں اسمارٹ فون صارفین روزانہ کی بنیاد پر مختلف یوٹیلیٹی، سوشل اور گیمنگ ایپلی کیشنز استعمال کرتے ہیں، جن کے لیے یہ انکشاف موبائل سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ آپ شاید کسی خاص کام کے لیے ایپ کو اپنے مقام تک رسائی دیتے ہیں، لیکن ڈویلپرز کی جانب سے ایپ میں شامل کیے گئے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کٹس (SDKs) اس حساس ڈیٹا کو بغیر کسی واضح پیشگی نوٹس کے ڈیٹا بروکرز کو منتقل کر دیتے ہیں۔

پوشیدہ اشتہاری ٹولز آپ کی نقل و حرکت کیسے ٹریک کرتے ہیں

اس مسئلے کی جڑ ان تھرڈ پارٹی ایڈورٹائزنگ فریم ورک میں ہے جو بظاہر معصوم ایپلی کیشنز کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ جب آپ گوگل پلے اسٹور سے کوئی مفت یوٹیلیٹی یا انٹرٹینمنٹ ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں، تو آپ یہ سوچ کر پرمشنز دے دیتے ہیں کہ وہ مقامی طور پر کام کرے گی۔ تاہم، یوزر انفلئنس کے نیچے کام کرنے والے خصوصی تجزیاتی اور ایڈ سرونگ ماڈیول باقاعدگی سے عین جغرافیائی ریڈنگز نکالتے ہیں۔ یہ ٹریکنگ لائبریریز جی پی ایس کوآर्डिनेट، قریبی وائی فائی نیٹ ورک شناخت کنندگان، اور بلوٹوتھ سگنلز کو پکڑتی ہیں اور انہیں کمرشل بنیادوں پر فروخت ہونے والے ڈیٹا پروفائلز میں تبدیل کرتی ہیں۔ ای ایف ایف کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل اکثر پس منظر میں مستقل طور پر جاری رہتا ہے۔

پاکستان میں اینرائیڈ صارفین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے

پاکستان میں اسمارٹ فونز کا استعمال 190 ملین سے زائد موبائل کنکشنز سے تجاوز کر چکا ہے، جن میں سے اکثریت اینرائیڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتی ہے۔ زیادہ تر صارفین عام طور پر مفت ایپس ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں اور قانونی زبان میں لکھی گئی پرائیویسی پالیسیوں کو پڑھے بغیر پرمشن کے آپشنز پر کلک کر دیتے ہیں۔ جب اشتহاری نیٹ ورک روزمرہ کے سفر کی ایپس، فوڈ ڈیلیوری کے آلات، یا نماز کے اوقات تلاش کرنے والی ایپس سے عین مقامات حاصل کرتے ہیں، تو آپ کی جسمانی نقل و حرکت کا مسلسل ریکارڈ بن جاتا ہے۔ یہ مسلسل پروفائلنگ ذاتی سیکیورٹی اور پرائیویسی کو خطرے میں ڈالتی ہے، اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو رپورٹ ہونے والے ڈیجیٹل فراڈ کے پیش نظر صارفین کو ہدف شدہ اسکیمز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اپنی پرائیویسی کو محفوظ بنانے کے فوری اقدامات

پوشیدہ ٹریکنگ سے اپنے ڈیوائس کو بچانے کے لیے ایپلیکیشن ڈیفالٹس پر بھروسہ کرنے کے بجائے فون کی سیٹنگز میں خود اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ آج ہی اپنے فون کی سیٹنگز میں جائیں، پرائیویسی یا ایپس کا انتخاب کریں، اور لوکیشن پرمشنز کی جانچ کریں۔ سیٹنگ کے اختیارات کو 'ہر وقت اجازت دیں' سے بدل کر 'ہر بار پوچھیں' یا 'صرف ایپ استعمال کرتے وقت اجازت دیں' پر سیٹ کریں۔ اس کے علاوہ، ایسی ایپلی کیشنز کے لیے 'پری سائز لوکیشن' یعنی عین مقام کی اجازت بند کر دیں جنہیں آپ کے قطعی پتے کی ضرورت نہیں ہوتی، جیسے کہ ٹارچ، کیلکولیٹر، یا آف لائن گیمز۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

ای ایف ایف کی ایڈوائزری کے بعد پرائیویسی کے حامیوں اور ریگولیٹری اداروں کی جانب سے موبائل سافٹ ویئر ڈویلپرز پر کڑی نظر رکھنے کی توقع ہے۔ پاکستان میں بائٹ فار آل جیسے ڈیجیٹل رائٹس کے اداروں اور گوگل کی پالیسیوں میں تبدیلیوں پر نظر رکھیں کہ تھرڈ پارٹی ایس ڈی سیز ڈیوائس سینسرز تک کیسے رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اگر ریگولیٹری دباؤ بڑھتا ہے تو گوگل پلے اسٹور ڈویلپرز کے لیے سخت شفافیت کے ضوابط نافذ کر سکتا ہے۔