کلکٹریٹ آف کسٹمز اپریزمنٹ، پورٹ محمد بن قاسم نے ایم/ایس فاسٹ ٹریک پروجیکٹس اینڈ لاجسٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے نئے کارگو ٹرمینل کے لیے باضابطہ آپریشنل طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔ پورٹ قاسم آپریشنز میں یہ تازہ ترین تبدیلی ملک کی اہم ترین تجارتی بندرگاہوں میں سے ایک پر سامان کی نقل و حمل کو تیز کرنے اور ریگولیٹری نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے کی گئی ہے۔
پورٹ قاسم آپریشنز کا نیا طریقہ کار
جاری کردہ اسٹینڈنگ آرڈر میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ نئے ٹرمینل پر سامان کو کیسے سنبھالا جائے گا اور کسٹم کلیئرنس کا عمل کس طرح مکمل ہوگا۔ کراچی سے کام کرنے والے درآمد کنندگان اور لاجسٹکس کمپنیوں کے لیے یہ اقدام رکاوٹوں کو کم کرنے اور دستاویزات کے عمل کو معیاری بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ کسٹمز حکام نے سامان کی منتقلی، معائنے کے وقت اور کارگو مینی فیسٹ کی ڈیجیٹل رپورٹنگ کے لیے واضح ہدایات دی ہیں۔
- ٹرمینل کا نام: ایم/ایس فاسٹ ٹریک پروجیکٹس اینڈ لاجسٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ۔
- نگران ادارہ: کلکٹریٹ آف کسٹمز اپریزمنٹ، پورٹ محمد بن قاسم۔
- اہم مقصد: کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنا اور شفافیت لانا۔
پورٹ قاسم میں آٹوموٹو زون کا قیام
موجودہ ٹرمینل طریقہ کار کے علاوہ، حکومت پورٹ قاسم میں صنعتی ترقی کے لیے بڑے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انور چوہدری نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ حکومت پورٹ قاسم میں 150 ایکڑ اراضی پر آٹوموٹو پروسیسنگ زون قائم کرے گی۔ یہ منصوبہ نہ صرف سرمایہ کاری کو فروغ دے گا بلکہ کراچی کو گاڑیوں کی اسمبلی اور برآمدی لاجسٹکس کا مرکز بھی بنائے گا۔
آپ کے کاروبار کے لیے اہم نکات
اگر آپ درآمد یا برآمد کے کاروبار سے وابستہ ہیں، تو آپ کو پاکستان کسٹمز کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر اسٹینڈنگ آرڈر کا مکمل متن ضرور دیکھنا چاہیے۔ نئے طریقہ کار میں ڈیجیٹل فائلنگ سسٹم کی سختی سے پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔ ان اصولوں پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کنٹینرز کی کلیئرنس میں تاخیر یا جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟
150 ایکڑ پر محیط آٹوموٹو زون کی پیش رفت پر نظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اس سے بندرگاہ کے ارد گرد ٹریفک اور زمین کے استعمال کی پالیسیوں میں تبدیلی آئے گی۔ جیسے جیسے نیا ٹرمینل مکمل طور پر فعال ہوگا، فیس کے ڈھانچے اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے لیے گیٹ پاس کے نئے قواعد کا اعلان متوقع ہے۔ اسٹیک ہولڈرز کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے پورٹل پر کسی بھی ممکنہ ترمیم پر نظر رکھنی چاہیے۔
