آپ کے ماہانہ بجلی کے بل میں فی یونٹ 4 روپے تک کا اضافہ ہونے والا ہے، جس سے ملک بھر کے گھرانوں کے بجٹ پر مزید بوجھ پڑے گا۔
یہ حالیہ اضافہ، جس میں جنرل سیلز ٹیکس (GST) بھی شامل ہے، اس وقت سامنے آیا ہے جب پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (XWDiscos) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے صارفین سے مزید 34 ارب روپے وصول کرنے کی اجازت مانگی ہے۔ یہ وصولی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی جا رہی ہے، اور اس کا اثر ستمبر 2026 سے نومبر 2026 تک کے بلوں پر پڑے گا۔
بجلی کے بل میں اضافے کی حقیقت
بجلی کے بل میں یہ اضافہ پاور سیکٹر کے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ایک عام پاکستانی گھرانے کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کی بجلی کی کھپت پچھلے مہینوں کے برابر بھی رہی، تب بھی آپ کا کل بل نمایاں طور پر بڑھ جائے گا۔ یہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس بنیادی طور پر جنریشن، کیپیسٹی پیمنٹس اور سسٹم کے نقصانات کا بوجھ براہِ راست صارفین پر منتقل کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔
اگر آپ پہلے ہی یوٹیلٹی بلوں کی وجہ سے مالی دباؤ کا شکار ہیں، تو یہ ایڈجسٹمنٹ آپ کے ماہانہ اخراجات کو سنبھالنا مزید مشکل بنا دے گی۔
آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟
آنے والے اخراجات سے نمٹنے کے لیے آپ کو اپنی بجلی کے استعمال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے:
- اپنی روزانہ کی کھپت پر نظر رکھیں: اپنی ڈسٹری بیوشن کمپنی کی ویب سائٹ کا استعمال کریں تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے کہ آپ کس سلیب ریٹ میں آتے ہیں۔
- آلات کا معائنہ کریں: پرانے فریج، ایئر کنڈیشنر یا واٹر پمپ جیسے زیادہ بجلی خرچ کرنے والے آلات کی نشاندہی کریں اور انہیں پیک آورز کے دوران استعمال کرنے سے گریز کریں۔
- بلنگ سائیکل چیک کریں: چونکہ یہ اضافہ ستمبر سے نومبر 2026 تک کے بلوں پر لاگو ہوگا، اس لیے کوشش کریں کہ اپنے موجودہ بل وقت پر ادا کریں تاکہ لیٹ پیمنٹ سرچارجز سے بچا جا سکے۔
مستقبل میں کیا توقع رکھیں
اپنی مقامی ڈسٹری بیوشن کمپنی (جیسے LESCO، K-Electric، یا IESCO) کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشنز پر گہری نظر رکھیں۔ اگرچہ 4 روپے فی یونٹ کا اضافہ زیادہ سے زیادہ حد ہے جس کی درخواست کی گئی ہے، لیکن حتمی منظوری نیپرا کی سماعت کے بعد سامنے آئے گی۔ ان ٹیرف ایڈجسٹمنٹس کے حتمی فیصلے کے لیے نیپرا کی آفیشل ویب سائٹ www.nepra.org.pk کو باقاعدگی سے چیک کریں۔
جیسے جیسے حکومت سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضوں) کے بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، صارفین کو ایک ایسے غیر مستحکم توانائی کے بازار کے لیے تیار رہنا چاہیے جہاں اخراجات کو اکثر ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔ اب اپنے ماہانہ بجٹ میں یوٹیلٹی بلوں کے اضافے کے لیے جگہ رکھنا ایک ضرورت بن چکا ہے۔
