پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے ان میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ پارٹی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر انصاف کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔
آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج پر تحفظات
چوہدری یاسین اور جاوید بڈھانوی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ان الزامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ کو چوری کیا گیا ہے۔ پی پی پی کا موقف ہے کہ حکومتی مشینری کا استعمال کر کے انتخابی عمل کو سبوتاژ کیا گیا اور اب وہ اس حوالے سے ٹھوس ثبوت عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
- پی پی پی نے انتخابی عمل کو مکمل طور پر غیر شفاف قرار دیا ہے۔
- پارٹی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ پولنگ کے عمل میں منظم طریقے سے مداخلت کی گئی۔
- قانونی ٹیمیں عدالت میں دائر کی جانے والی درخواست کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔
مرحلہ وار انتخابات اور پنجاب پولیس کی تعیناتی
چوہدری یاسین نے کہا کہ ہم نے پہلے دن سے ہی مرحلہ وار انتخابات کی مخالفت کی تھی کیونکہ یہ اقدام شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار کا مقصد مخصوص حلقوں میں حکومتی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا تھا۔
اس کے علاوہ، پی پی پی نے پنجاب پولیس کی تعیناتی پر بھی شدید تنقید کی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کو جان بوجھ کر انتخابات میں اثر انداز ہونے کے لیے بلایا گیا تاکہ ووٹرز کو ہراساں کیا جا سکے اور ن لیگ کے حق میں نتائج تبدیل کیے جا سکیں۔
مستقبل کا لائحہ عمل
آزاد کشمیر کی سیاست میں اب یہ معاملہ عدالت میں جانے سے مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ عوامی حلقوں میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کہ آیا یہ قانونی جنگ انتخابی نتائج پر کیا اثر ڈالے گی۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں، کیونکہ عدالتی کارروائی کے بعد ہی صورتحال مکمل طور پر واضح ہو سکے گی۔
