پاکستان پیپلز پارٹی (پیپلز پارٹی) نے نو پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کروانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو باضابطہ طور پر چیلنج کر دیا ہے۔ پارٹی قیادت کا موقف ہے کہ ان کے امیدوار سردار ضیاء قمر پہلے ہی فیصلہ کن برتری حاصل کر چکے ہیں، لہذا ان اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
پی پی پی الیکشن ری پولنگ پر تنازعہ
پیپلز پارٹی کے قانونی ماہرین نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سردار ضیاء قمر اپنے حریفوں کے مقابلے میں واضح برتری رکھتے ہیں اور ان مخصوص نو مقامات پر دوبارہ ووٹنگ کروانے کا فیصلہ انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ نتائج کا اعلان موجودہ ووٹوں کی گنتی کی بنیاد پر کیا جائے۔
انتخابی چیلنج کا پس منظر
یہ صورتحال ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے حتمی مرحلے کے دوران پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان کے مختلف انتخابی حلقوں میں اکثر امیدوار دوبارہ پولنگ کے فیصلوں کو اس وقت چیلنج کرتے ہیں جب انہیں لگتا ہے کہ یہ عمل نتائج تبدیل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) عام طور پر تب دوبارہ پولنگ کا حکم دیتا ہے جب وہاں بے قاعدگیوں، بیلٹ پیپرز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا تشدد کی شکایات موصول ہوں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ اس حلقے کے ووٹر ہیں تو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر نظر رکھیں۔ دوبارہ پولنگ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر یقین نہ کریں۔ درست معلومات کے لیے الیکشن کمیشن کی آفیشل ویب سائٹ www.ecp.gov.pk ملاحظہ کریں۔ اگر آپ کا تعلق ان نو اسٹیشنز سے ہے، تو ووٹ ڈالنے کے لیے اپنا اصل شناختی کارڈ (CNIC) ساتھ لے کر جائیں، کیونکہ ایکسپائرڈ کارڈز قبول نہیں کیے جائیں گے۔
آگے کیا ہوگا؟
آنے والے چند دن اس معاملے میں فیصلہ کن ہوں گے۔ الیکشن کمیشن پیپلز پارٹی کی درخواست پر سماعت کرے گا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا دوبارہ پولنگ کے لیے ٹھوس ثبوت موجود ہیں یا نہیں۔ حتمی فیصلے کے لیے مقامی خبروں اور الیکشن کمیشن کے اعلامیوں پر نظر رکھیں۔ اگر پیپلز پارٹی کی درخواست مسترد ہوتی ہے، تو شیڈول کے مطابق دوبارہ پولنگ ہوگی، جو انتخابی نتائج میں تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔
