پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت سے حمایت واپس لے سکتی ہے اور یہ فیصلہ مناسب وقت پر کیا جائے گا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومتی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور عندیہ دیا کہ موجودہ اتحادی حکومت کے ساتھ ان کی جماعت کا ساتھ اب غیر مشروط نہیں رہا۔
حکومت سے دوری کیوں ضروری ہے؟
ندیم افضل چن کے بیانات عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے اور آٹا، بجلی اور پیٹرول کی قیمتیں عام شہریوں کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اندر یہ سوچ زور پکڑ رہی ہے کہ حکومتی پالیسیوں کا بوجھ اٹھانا پارٹی کے سیاسی مفاد میں نہیں ہے۔
- حکومتی معاشی پالیسیوں پر عوامی ناراضگی۔
- یوٹیلیٹی بلز اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی نہ آنا۔
- انتخابی حلقوں میں پارٹی کی ساکھ بچانے کا دباؤ۔
اتحادی سیاست کا مستقبل
اگرچہ پیپلز پارٹی فی الحال حکومت کا حصہ ہے، لیکن سیاسی حالات کسی بھی وقت بدل سکتے ہیں۔ چن کا بیان اس بات کی علامت ہے کہ پارٹی اب حکومت کی ناکامیوں کا ملبہ اپنے سر لینے کو تیار نہیں۔ اگر حکومت نے معاشی حالات کو بہتر کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
بطور شہری، اپنے حلقے کے نمائندوں کے بیانات اور حکومتی فیصلوں پر نظر رکھیں۔ سیاسی ہلچل کے اثرات براہ راست اسٹاک مارکیٹ اور ڈالر کی قیمت پر پڑتے ہیں، اس لیے اپنے مالی فیصلے کرتے وقت ملکی سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھیں۔
آگے کیا ہوگا؟
پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاسوں پر گہری نظر رکھیں۔ اگر پیپلز پارٹی آئی ایم ایف کے نئے ٹیکسوں یا بجٹ کے حوالے سے قانون سازی میں اختلاف کرتی ہے یا ووٹنگ سے گریز کرتی ہے، تو سمجھ لیں کہ ندیم افضل چن کے ذکر کردہ 'مناسب وقت' کا آغاز ہو چکا ہے۔
