خیبر پختونخوا میں صحت کے نظام کی تباہی ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن چکی ہے، جس کے پیش نظر پاکستان پیپلز پارٹی (پیپلز پارٹی) نے صوبائی محکمہ صحت کے معاملات کا آزادانہ آڈٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعرات، 22 مئی 2025 کو پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور سابق رکن اسمبلی نگہت اورکزئی نے صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سرکاری ہسپتالوں کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
صحت کے نظام کی زبوں حالی پر خدشات
نگہت اورکزئی نے الزام لگایا کہ صوبائی انتظامیہ نے بنیادی طبی سہولیات کو نظر انداز کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں ادویات اور تشخیصی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہو رہی۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ فنڈز کی ناقص انتظامیہ اور نگرانی کے فقدان نے صوبے کے پورے ہیلتھ نیٹ ورک کو بحرانی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے اٹھائے گئے اہم نکات یہ ہیں:
- بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ضروری اور زندگی بچانے والی ادویات کی شدید قلت۔
- تشخیصی آلات کا خراب ہونا، جس کی وجہ سے مریض مہنگے نجی مراکز پر جانے پر مجبور ہیں۔
- ہسپتالوں کے انتظامی امور میں غفلت اور احتساب کا فقدان۔
- صحت کے بجٹ کے درست استعمال کی جانچ کے لیے شفاف تھرڈ پارٹی آڈٹ کا مطالبہ۔
آزادانہ آڈٹ کیوں ضروری ہے؟
پشاور ہو یا خیبر پختونخوا کے دور دراز اضلاع، عام شہری کے لیے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال ایک روزانہ کا امتحان بن چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ آزادانہ آڈٹ کے بغیر موجودہ حکومت ان خامیوں کو چھپاتی رہے گی جو غریب مریضوں کو معیاری طبی سہولیات سے محروم کر رہی ہیں۔ ایک غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے ہی یہ سامنے آ سکے گا کہ سرکاری دعووں اور زمینی حقائق میں کتنا تضاد ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ یا آپ کا کوئی رشتہ دار سرکاری ہسپتال میں علاج کے دوران مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، تو اپنی شکایات کو ریکارڈ پر لائیں۔ دستیاب نہ ہونے والی ادویات کے نسخوں اور آلات کی خرابی کی وجہ سے ہونے والے اخراجات کا ریکارڈ رکھیں۔ آپ اپنی شکایات خیبر پختونخوا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے آفیشل پورٹل healthkp.gov.pk پر درج کروا سکتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
صوبائی حکومت نے ابھی تک ان مطالبات پر کوئی تفصیلی ردعمل نہیں دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا صوبائی اسمبلی اس معاملے پر انکوائری کمیٹی بناتی ہے یا حکومت اپنی کارکردگی کی کوئی وضاحتی رپورٹ جاری کرتی ہے۔ صحت کا شعبہ اب ایک اہم سیاسی موضوع بن چکا ہے، اس لیے اپوزیشن کی جانب سے اصلاحات کے لیے دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
