اسلام آباد اور مظفرآباد میں سیاسی ہلچل اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی نتائج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان پر شدید دھاندلی کے الزامات عائد کر دیے۔ پارٹی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس مبینہ دھاندلی کے خلاف بھرپور قانونی جنگ لڑیں گے اور ہر فورم پر اس کا دفاع کریں گے۔ یہ سیاسی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں انتخابی عمل کے اگلے مراحل کی تیاریاں جاری ہیں۔

ایل اے 32 کے نتائج اور اشفاق ظفر کا مؤقف

پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سینئر نائب صدر اور حلقہ ایل اے-32 کے نامزد امیدوار صاحبزادہ محمد اشفاق ظفر ایڈووکیٹ نے انتخابی عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے حلقے میں ڈالے گئے ووٹوں اور گنتی کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے نتائج ماننے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے اور اس ناانصافی کے خلاف عدالتوں سمیت تمام ممکنہ قانونی راستے اپنائے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے حلقے کے ووٹرز کے حقوق کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔

حلقہ ایل اے 27 میں پولنگ التوا اور دیگر الزامات

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سردار جاوید ایوب نے مظفرآباد میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران حلقہ ایل اے-27 میں پولنگ ملتوی کیے جانے کو بھی گہری سازش اور مبینہ دھاندلی قرار دیا۔ انہوں نے انتخابی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ من پسند نتائج حاصل کرنے کے لیے انتظامی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ آزاد کشمیر کے مختلف حلقوں میں جس طرح کا ماحول بنایا گیا، اس نے شفاف انتخابات کے تمام دعووں کی دھجیاں اڑادی ہیں۔

مرکزی قیادت کا مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان

اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے قائم مقام صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر، پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے صدر چوہدری محمد یسین اور ندیم افضل چن کے ہمراہ پورے خطے کے انتخابی عمل کو مسترد کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ رہنماؤں کا مطالبہ تھا کہ موجودہ متنازعہ انتخابی عمل کو کالعدم قرار دے کر تمام متنازعہ حلقوں میں دوبارہ پولنگ کروائی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر اصلاح احوال نہ کی گئی تو احتجاجی تحریک کا دائرہ کار مزید وسعت اختیار کر سکتا ہے۔

الیکشن کا اگلا مرحلہ اور سیاسی مستقبل

انتخابی شیڈول کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے تیسرا اور اہم مرحلہ 10 اگست کو منعقد ہوگا۔ اس مرحلے کے دوران پونچھ ڈویژن کی 11 نشستوں پر ووٹنگ کی جائے گی، جس میں باغ اور حویلی اضلاع کی 4 جبکہ پونچھ اور سدھنوتی کے 7 حلقے شامل ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس تنازعے اور کشیدگی کے بعد 10 اگست کا پولنگ مرحلہ انتہائی حساس اور سخت مقابلے والا ہوگا۔

آپ کو آگے کیا کرنا چاہیے

اگر آپ کا تعلق حلقہ ایل اے-32، ایل اے-27 یا پونچھ ڈویژن کے کسی بھی متعلقہ علاقے سے ہے، تو آپ کو چاہیے کہ انتخابی کمیشن کی آفیشل ویب سائٹ اور مقامی ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ تراجم پر نظر رکھیں تاکہ 10 اگست کے پولنگ مرحلے کی درست معلومات آپ تک بروقت پہنچ سکیں۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے پرامن رہیں اور مصدقہ خبروں کے لیے صرف مستند ذرائع پر انحصار کریں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

آئندہ چند روز میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا الیکشن کمیشن آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کی ان دائر کردہ درخواستوں اور قانونی چارہ جوئی پر کیا ردعمل دیتا ہے۔ اس کے علاوہ 10 اگست کو ہونے والی پولنگ کے انتظامات اور سیکیورٹی کی صورتحال خطے کی آئندہ کی سیاسی سمت کا تعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔