صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ہرگز تبدیل نہیں کر سکتے۔ یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اسلام آباد سے جاری اپنے الگ الگ پیغامات میں ملکی قیادت نے بھارت کے پانچ اگست 2019ء کے اقدامات کی شدید مذمت کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت ملنے تک ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

یکطرفہ اقدامات اور کشمیری عوام سے یکجہتی

قیادت کا کہنا تھا کہ بھارتی آئین کی دفعہ 370 کا خاتمہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یومِ استحصال اس عزم کا اعادہ ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتا رہے گا۔ وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں سرکاری عمارتوں پر سیاہ پرچم لہرائے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں جن کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرنا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں دیرپا امن کا قیام کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر ناممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حریت رہنماؤں کی غیر قانونی گرفتاریاں اور مواصلات کی بندش کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ حکومت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں جاری آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی سازشوں کا نوٹس لے۔

سفارتی ترجیحات اور قومی اتفاقِ رائے

  • اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر کشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑنا۔
  • عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے بھارتی ظلم و ستم کے شواہد رکھنا۔
  • کشمیر کے معاملے پر تمام سیاسی اور عسکری قیادت کا ایک ہی پیج پر ہونا۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی جانب سے بریفنگز میں بتایا گیا کہ پاکستان عالمی سطح پر بھارتی اقدامات کو بے نقاب کرنے کے لیے متحرک سفارت کاری جاری رکھے گا۔ لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں سول سوسائٹی اور طلباء نے ریلیاں نکال کر کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

آئندہ دنوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ کے بیانات پر نظر رکھی جائے گی۔ اسلام آباد کی کوشش ہوگی کہ عالمی دارالحکومتوں میں مقبوضہ وادی کی انسانی صورتحال کو مزید اجاگر کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق وزارتِ خارجہ اس سلسلے میں خصوصی سفارتی وفود بھی روانہ کرے گی تاکہ عالمی برادری پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔