صدر آصف علی زرداری نے وفاقی حکومت کی سفارش پر judges salary in pakistan میں اضافے کی سمری کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت ملک کی اعلیٰ عدلیہ، بشمول سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا گیا ہے۔

ججز کی تنخواہوں میں اضافے کی تفصیلات

یہ منظوری ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب وفاقی حکومت عدالتی امور اور انتظامی ڈھانچے میں مالیاتی ترامیم پر کام کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کرکے اسے قانونی شکل دے دی ہے۔ اگرچہ اضافے کی حتمی شرح کو عام نہیں کیا گیا، لیکن یہ اقدام ججز کی مراعات کو موجودہ وفاقی پالیسیوں کے مطابق ہم آہنگ کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

ملکی معیشت پر اثرات

اس طرح کے فیصلوں پر عوامی حلقوں میں بحث کی جاتی ہے، خاص طور پر موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے لیے تنخواہوں میں اضافہ حکومتی بجٹ کا حصہ ہوتا ہے، جس پر اب عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔ عام شہریوں کے لیے یہ خبر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عدالتی نظام کو چلانے کے لیے درکار انتظامی اخراجات میں وفاقی حکومت کس طرح ردوبدل کرتی ہے۔

اب کیا ہوگا؟

صدر کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد، اب متعلقہ محکمے بشمول وزارت قانون و انصاف اور اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان اس اضافے کو تنخواہوں کے اگلے چکر میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ آپ ان تبدیلیوں سے متعلق مزید اپ ڈیٹس کے لیے وزارت قانون کی ویب سائٹ (molaw.gov.pk) یا سپریم کورٹ کی آفیشل ویب سائٹ (supremecourt.gov.pk) سے رجوع کر سکتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی مراعات یا پنشن میں بھی کوئی تبدیلی کی گئی ہے یا نہیں۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات آنے والے دنوں میں سرکاری گزٹ کے ذریعے سامنے آنے کی توقع ہے۔