صدر آصف علی زرداری نے باضابطہ طور پر 'مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ' پر دستخط کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے خطے اور دنیا بھر میں امن، سیکیورٹی اور استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی رہنما علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اجتماعی سیکیورٹی ڈھانچوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کیا ہے؟

مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ اسلامی ممالک کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مربوط کرنے کی ایک مشترکہ کوشش ہے۔ اس معاہدے کا مقصد غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے علاقائی قوتوں اور اندرونی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا ہے۔ پاکستان کے لیے، یہ اتحاد ایک ایسے وقت میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے جب اسے اپنے پڑوس میں پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

معاہدے کے اہم نکات:
- صدر زرداری کی جانب سے معاہدے کی توثیق اور اسے علاقائی امن کے لیے اہم قرار دینا۔
- ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا جمعہ 8 اگست 2025 کو اس معاہدے کی حمایت میں بیان۔
- اسلامی ممالک پر زور کہ وہ بیرونی طاقتوں کے بجائے آپس میں یکجہتی کو ترجیح دیں۔

علاقائی یکجہتی کی اہمیت

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے زور دیا ہے کہ جب مسلم ممالک متحد ہوتے ہیں، تو وہ ہر چیلنج کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے جمعہ 8 اگست 2025 کو اپنے بیان میں کہا کہ اندرونی صلاحیتوں پر انحصار ہی اسلامی دنیا کے لیے پائیدار راستہ ہے۔ یہ موقف پاکستان کی اس دیرینہ پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے جس میں خطے کے ممالک کے ساتھ سیکیورٹی شراکت داری کو فروغ دیا جاتا ہے۔

عام پاکستانی کے لیے، اس معاہدے کا مطلب صرف سفارتی کامیابی نہیں بلکہ معاشی استحکام بھی ہے۔ جب مشرق وسطیٰ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کشیدگی کو مقامی تعاون کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے، تو اس کے براہ راست اثرات عالمی تجارتی راستوں اور توانائی کی قیمتوں پر پڑتے ہیں، جس سے پاکستان میں مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اثرات

خارجہ امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کی حمایت کر کے اسلام آباد خود کو ایک متحد اسلامی سیکیورٹی ڈھانچے کے اہم رکن کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ یہ اقدام علاقائی پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے اور سیکیورٹی خطرات کے خلاف مشترکہ ردعمل دینے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرے گا۔

آگے کیا ہوگا؟

عوام کو دفتر خارجہ کی جانب سے اس معاہدے کے عملی پہلوؤں پر آنے والی مزید تفصیلات پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگرچہ بیانات مثبت ہیں، لیکن اصل امتحان اس معاہدے پر عمل درآمد اور مشترکہ دفاعی مشقوں کا انعقاد ہوگا۔ آنے والے دنوں میں ہونے والے کثیر الجہتی اجلاسوں پر نظر رکھیں جہاں ان دفاعی تعلقات کو مزید ٹھوس پالیسیوں میں ڈھالا جائے گا۔