صدر مملکت آصف علی زرداری نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ ایک اہم سہ فریقی دفاعی معاہدہ طے پانے پر وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ 14 اگست 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون کے نئے باب کا جائزہ لیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو خطے کے امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت کو اس معاہدے کے مختلف خدوخال اور عسکری نوعیت کے فیصلوں سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدہ نہ صرف عسکری صلاحیتوں کو نکھارے گا بلکہ دفاعی پیداوار اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں اشتراک کو بھی نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔

دفاعی معاہدے پر عملدرآمد کا عزم

صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر زور دیا کہ اس دفاعی معاہدے کی مؤثر اور فوری عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ تینوں برادر ممالک کی عسکری صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس سہ فریقی اتحاد سے پاکستان کو جدید ترک ٹیکنالوجی اور سعودی مالیاتی تعاون کا انوکھا امتزاج ملے گا، جو ملکی دفاعی ڈھانچے کو مزید مضبوط کرے گا۔

وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی اس بیٹھک میں اسٹریٹجک امور پر گہری نظر رکھی گئی، اور خطے میں بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال کا احاطہ بھی کیا گیا۔ اس اقدام کو پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

آئندہ کے لائحہ عمل پر نظریں

عوام کے لیے اس قسم کے معاہدے بالآخر ملکی دفاعی بوجھ کو کم کرنے اور مشترکہ پیداوار کے ذریعے معیشت کو سہارا دینے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ وزارتِ دفاع اس معاہدے کے عملی نفاذ کے لیے کیا شیڈول جاری کرتی ہے اور کن شعبوں میں مشترکہ کام کا آغاز سب سے پہلے ہوتا ہے۔