پاکستان بھر میں والدین کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ نئے وفاقی بجٹ کے اعلان کے بعد سکول کے بنیادی سامان کی قیمتوں میں یک دم اضافہ ہو گیا ہے۔
گھریلو بجٹ پر براہ راست اثر
اسلام آباد میں وزارتِ خزانہ کی جانب سے 12 جون 2027 کو باضابطہ طور پر پیش کیے گئے بجٹ میں کاغذ، گتے اور یونیفارم کے لیے استعمال ہونے والے سنتھیٹک کپڑے پر نئے درآمدی ڈیوٹی اور ٹیکس عائد کیے گئے۔ بجٹ تقریر کے چند دنوں کے اندر ہی لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت بڑے شہروں کے مقامی بازاروں میں قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ عام کاپیاں جو پہلے 100 روپے میں فروخت ہو رہی تھیں، اب 135 سے 150 روپے تک مل رہی ہیں۔ درآمد شدہ پین، جیومیٹری باکس اور سکول کے بستوں کی قیمتوں میں 25 سے 30 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اہم تفصیلات
- اعلان کی تاریخ: 12 جون 2027
- قیمتوں میں اضافے کے نفاذ کی تاریخ: 1 جولائی 2027
- متاثرہ شہر: لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ سمیت ملک بھر کے تمام شہر
- اوسط قیمت میں اضافہ: کاپیوں، سٹیشنری اور یونیفارم پر 20 سے 35 فیصد تک
- مخصوص قیمت کی تبدیلی: 200 صفحات کی معیاری کاپی 100 روپے سے بڑھ کر 140 روپے ہو گئی
- ٹیکس کی تفصیلات چیک کرنے کے لیے سرکاری ویب سائٹ: www.fbr.gov.pk
حکومت کا مؤقف اور ریلیف کے اقدامات
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا مؤقف ہے کہ درآمدی کاغذ پر ٹیکسوں کو معقول بنانا ملکی تجارت کے لیے ضروری تھا، تاہم ماہرین تعلیم اور والدین کی تنظیموں نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ کراچی اور لاہور میں صارفین کے حقوق کے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ بنیادی تعلیم کے آلات پر ٹیکس لگانا خواندگی کے قومی اہداف کے خلاف ہے۔
والدین تعلیمی سامان پر ٹیکسوں کی نظرثانی شدہ تفصیلات جاننے کے لیے ایف بی آر کی آفیشل ویب سائٹ www.fbr.gov.pk کا وزٹ کر سکتے ہیں۔ اس دوران پنجاب اور سندھ کے صوبائی تعلیمی محکموں نے سرکاری سکولوں میں مفت یا سستی کتابیں تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن نجی سکولوں کے بچوں کو مارکیٹ کی ان بلند قیمتوں سے کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔
مہنگائی کے اس دور میں بچت کی تدابیر
جیسے جیسے مہنگائی کی وجہ سے گھریلو خریدار کی قوتِ خرید کم ہو رہی ہے، خاندانوں کو مجبوراً کم معیار یا کم مقدار پر گزارا کرنا پڑ رہا ہے۔ لاہور کے شاہ عالمی بازار یا کراچی کے بولٹن مارکیٹ جیسے ہول سیل بازاروں سے تھوک کے بھاؤ خریداری کرنا ہی والدین کے پاس واحد راستہ بچا ہے۔ اگر بچوں کی تعلیمی ضروریات پر ہدف شدہ سبسڈی نہ دی گئی تو معیاری تعلیم نچلے متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو جائے گی۔
