وزیر اعظم شہباز شریف 29 اکتوبر 2024 کو سعودی عرب کے اپنے اعلیٰ سطحی سرکاری دورے کے آغاز کے موقع پر روضہ رسول ﷺ پر حاضری دینے کے لیے مقدس شہر مدینہ منورہ پہنچے۔
دورے کی اہم تفصیلات
آمد کی تاریخ: 29 اکتوبر 2024
*مقام: مدینہ، سعودی عرب
* مقصد: زیارت اور اعلیٰ سطحی دو طرفہ ملاقاتیں۔
* اپ ڈیٹس کے لیے آفیشل پورٹل: www.pmo.gov.pk
* اہم ایجنڈا: اقتصادی تعلقات اور سرمایہ کاری کے تعاون کو مضبوط بنانا
مدینہ منورہ کے شہزادہ محمد بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وزیراعظم کا استقبال سعودی عرب کے سینئر حکام اور پاکستانی سفارتی مشن کے نمائندوں نے کیا۔ آمد کے پروٹوکول کے بعد وزیراعظم مسجد نبوی کی طرف روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے نوافل ادا کیے اور روضہ رسول پر حاضری دی۔
پاک سعودی اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنا
دورے کی روحانی اہمیت سے ہٹ کر، وزیر اعظم کا دورہ 'وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب' کے ایجنڈے پر مرکوز ہے، جس کا مقصد سرمایہ کاری کے متعدد معاہدوں کو حتمی شکل دینا ہے۔ پاکستان اس وقت اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے اور قومی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو راغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ وفد سعودی پاکستان انویسٹمنٹ کمپنی کے تحت جاری منصوبوں اور توانائی اور کان کنی کے شعبوں میں ممکنہ نئے منصوبوں پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ توقع ہے کہ وزیراعظم سعودی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جس میں علاقائی استحکام اور دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پاکستان کا آگے کیا ہوگا؟
جیسا کہ وزیر اعظم ریاض میں اپنی طے شدہ ملاقاتوں کے ساتھ آگے بڑھیں گے، توجہ ان مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) کو باضابطہ بنانے کی طرف بڑھے گی جن پر پہلے اعلیٰ سطحی وزارتی دوروں کے دوران تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ عام پاکستانی شہری کے لیے، ان سفارتی کوششوں کے اثرات کو ترسیلات زر میں اضافے، توانائی کے تحفظ اور مملکت میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے ملازمت کے مواقع سے ماپا جاتا ہے۔
دورے کی باضابطہ کارروائی 31 اکتوبر 2024 کو اختتام پذیر ہوگی جس کے بعد وزیراعظم کی اسلام آباد واپسی متوقع ہے۔ شہری ان دوطرفہ معاہدوں اور سرکاری بیانات کی پیشرفت کو وزیر اعظم کے دفتر کی ویب سائٹ www.pmo.gov.pk کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں۔ حکومت پر امید ہے کہ یہ مصروفیات ملکی اقتصادی بحالی کے منصوبے کو ضروری محرک فراہم کریں گی۔
