وزیراعظم رواں ماہ 2 غیر ملکی دورے کریں گے جس کا مقصد پاکستان کے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔ ان دوروں کا باقاعدہ آغاز 17 اگست 2024 سے ہوگا، جب وزیراعظم انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں منعقد ہونے والے ڈی ایٹ (D-8) سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوں گے۔
دوروں کی تفصیلات
ڈی ایٹ تنظیم، جس میں پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملائیشیا، نائیجیریا اور ترکی شامل ہیں، رکن ممالک کے درمیان معاشی تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ جکارتہ میں ہونے والے اس اجلاس میں وزیراعظم کی توجہ تجارتی حجم بڑھانے اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر مرکوز ہوگی۔ پہلے دورے کی تکمیل کے بعد وزیراعظم اپنے دوسرے غیر ملکی دورے کے لیے روانہ ہوں گے، جس کی حتمی منزل اور تاریخوں کا اعلان دفتر خارجہ کی جانب سے جلد متوقع ہے۔
یہ دورے کیوں اہم ہیں؟
ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر یہ دورے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے روپے کی قدر میں استحکام اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ان عالمی فورمز پر شرکت سے پاکستان کو اپنی برآمدات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور درآمدی لاگت میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
قارئین کے لیے اہم ہدایات
ان دوروں کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور طے پانے والے معاہدوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیوں میں ان دوروں کے معاشی اثرات واضح ہوں گے۔ ہم ان دوروں سے متعلق ہر پیش رفت پر آپ کو بروقت آگاہ کرتے رہیں گے۔
