وفاقی محتسب برائے ہراست (FOSPAH) نے زچگی کی منظور شدہ چھٹی کے دوران ایک خاتون ملازمہ کو ملازمت سے برطرف کرنے کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے نجی ادارے پر پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ منگل کے روز سنائے جانے والے فیصلے میں ادارے کے اس اقدام کو صریحاً صنفی امتیاز اور غیر قانونی ورک پلیس ہراسمنٹ پاکستان کے زمرے میں قرار دیا گیا۔
یہ فیصلہ ان تمام خواتین کے لیے ایک بڑی قانونی فتح کی حیثیت رکھتا ہے جو کارپوریٹ سیکٹر میں ملازمت کے دوران زچگی کی چھٹیاں لینے پر غیر اعلانیہ دباؤ اور جببر کا سامنا کرتی ہیں۔ محتسب ادارے نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا ہے کہ زچگی کی چھٹی کو ملازمت سے برطرفی کی بنیاد بنانا سنگین جرم ہے اور اس سے خواتین کے بنیادی معاشی حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔
فیصلے کی اہم تفصیلات
محکمہ جاتی تحقیقات کے مطابق متاثرہ خاتون نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے زچگی کی چھٹی کی درخواست دی تھی جسے کمپنی نے منظور کر لیا تھا، تاہم چھٹیوں کے دوران ہی انتظامیہ نے خاتون کو نوکری سے فارغ کرنے کا ظالمانہ فیصلہ سنا دیا۔
- جرمانے کی رقم: پانچ لاکھ روپے بطور ہرجانہ متاثرہ ملازمہ کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
- لازمی بحالی: خاتون کو فوری طور پر اس کے سابقہ عہدے پر بحال کرنے اور تمام واجبات کی ادائیگی کی ہدایت کی گئی ہے۔
- قانونی کارروائی: یہ فیصلہ صنفی امتیاز اور ہراست کے قوانین کے تحت جاری کیا گیا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ یا آپ کے جاننے والے کسی بھی شخص کو دوران حمل یا زچگی کی چھٹیوں کے دوران غیر قانونی طور پر نوکری سے نکالا جائے تو خاموش مت بیٹھیں۔ تمام تحریری احکامات، ای میلز اور پیغامات کو محفوظ رکھیں۔ آپ اسلام آباد میں واقع وفاقی محتسب برائے ہراست (FOSPAH) کے دفتر یا ان کے آن لائن پورٹل پر بلا جھجھک اپنی باضابطہ شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں شکایت درج کرانے کے لیے کسی مہنگے وکیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔
آگے کیا ہوگا
لیبر رائٹس کے ماہرین اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا متعلقہ نجی ادارہ اس عدالتی فیصلے پر فوری عمل درآمد کرتا ہے یا اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مزدور یونینز اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں وزارت انسانی وسائل سے یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ زچگی کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف خودکار نظام کے تحت سخت سزائیں مقرر کی جائیں۔ آنے والے دنوں میں اس نوعیت کے دیگر کیسز میں تیزی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
