پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے راولپنڈی ڈویژن میں تعلیمی ادارے فوری کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے جاری تعلیمی تعطل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
راولپنڈی میں پرائیویٹ اسکولز کے مطالبات
اسکولوں کی بندش کے باعث تعلیمی نقصان اور مالی مشکلات میں اضافے پر ایسوسی ایشن کے رہنما فرقان چوہدری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایک ہی شہر میں دو مختلف تعلیمی پالیسیاں کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو بلاوجہ بند رکھنا نہ صرف طلبا کے مستقبل سے کھلواڑ ہے بلکہ اساتذہ اور عملے کے معاشی حالات کو بھی شدید متاثر کر رہا ہے۔
طلباء اور والدین کے لیے مشکلات
تعلیمی اداروں کے غیر یقینی شیڈول کی وجہ سے والدین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ طویل بندش کے باعث اسکولوں کا انتظامی ڈھانچہ بھی متاثر ہو رہا ہے اور نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال میں اساتذہ کی تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت فوری طور پر تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے لائحہ عمل واضح کرے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
ایسوسی ایشن نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ ہوا تو وہ احتجاج کا دائرہ کار وسیع کر سکتے ہیں۔ والدین اور اسکول انتظامیہ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی آفیشل ویب سائٹ سے جاری ہونے والے احکامات پر نظر رکھیں۔ فی الحال تعلیمی اداروں کے مکمل کھلنے کی کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی ہے، تاہم متعلقہ حکام سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
