لاہور ایجوکیشن اتھارٹی نے شہر بھر کے تمام نجی تعلیمی اداروں کو سخت تنبیہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گرمیوں کی تعطیلات کے سرکاری شیڈول کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وہ تمام ادارے جو چھٹیوں کے نفاذ کے دوران بھی اسکول یا تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے پائے گئے، انہیں بھاری جرمانوں اور رجسٹریشن منسوخی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ والدین کی جانب سے اکثر شکایات موصول ہوتی ہیں کہ بعض ادارے قبل از وقت فیسیں وصول کرنے یا کورس مکمل کرنے کے نام پر سرکاری احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہیں، جس سے شدید گرمی میں بچوں کی صحت اور معمولات متاثر ہوتے ہیں۔
لاہور ایجوکیشن اتھارٹی کی سخت مانیٹرنگ
نجی اسکولوں کی گرمیوں کی تعطیلات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا مقصد بچوں کو سال کے گرم ترین مہینوں میں شدید موسم کے اثرات سے بچانا ہے۔ اس ہدایت کے تحت تمام کیمپس اگست میں تعطیلات کے اختتام اور باضابطہ دوبارہ کھلنے کی تاریخ تک مکمل طور پر بند رہنے چاہئیں۔ محکمہ تعلیم کے انسپکٹرز کو مختلف زونز میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ وہ چھٹیوں کے دوران بھی چھپ کر کوچنگ کلاسز چلانے والے یا انتظامی امور کے نام پر طلبہ کو بلانے والے اداروں کو پکڑ سکیں۔
- تمام تعلیمی ادارے منظور شدہ تعطیلات کے دوران مکمل بند رہنے کے پابند ہیں۔
- معائنہ ٹیمیں غیر قانونی طور پر کھلنے والے کیمپس کی نشاندہی کے لیے فیلڈ میں موجود ہیں۔
- قواعد توڑنے والے اداروں کو فوری طور پر قانونی نوٹس اور رجسٹریشن معطلی کا سامنا کرنا ہوگا۔
- حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی سمر کیمپوں کی شکایات متعلقہ ہیلپ لائن پر درج کروائیں۔
والدین اور اسکول انتظامیہ کے لیے ہدایات
اگر آپ صوبائی دارالحکومت میں کسی نجی اسکول یا اکیڈمی کے منتظم ہیں، تو یہ یقینی بنائیں کہ اگست کی مقررہ تاریخ تک آپ کے ادارے کے دروازے بند رہیں۔ غیر مجاز سمر ایکٹیویٹیز یا اضافی کلاسیں چلا کر بھاری جرمانے اور قانونی کارروائی مول نہ لیں۔ دوسری طرف اگر آپ کے علاقے میں کوئی اسکول زبردستی بچوں کو بلا رہا ہے یا فیسیں وصول کر رہا ہے، تو آپ فوری طور پر اس کی شکایات لاہور ایجوکیشن اتھارٹی کے پبلک گریوانس سیل یا آفیشل پورٹل پر درج کرا سکتے ہیں۔
آئندہ کا لائحہ عمل
پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اگست میں اسکول کھلنے کی حتمی تاریخ اور کسی بھی ممکنہ توسیع کے اعلانات پر کڑی نظر رکھیں۔ جیسے جیسے مانیٹرنگ ٹیمیں اپنی روزانہ کی رپورٹیں جمع کرائیں گی، آنے والے دنوں میں قانون شکن اداروں کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔ ہم اس صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ انتظامی دباؤ کے بعد کتنے ادارے ان احکامات کی مکمل تعمیل کرتے ہیں۔
