فیسکو کی نجکاری (FESCO privatization) کا عمل سرکاری سطح پر اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے بعد اب دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کی جانب سے 'اظہارِ دلچسپی' (EOI) جمع کرائے جا رہے ہیں۔ یہ اقدام پاکستان کے توانائی کے شعبے میں جاری گردشی قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے حکومت کی نجکاری پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے۔

فیسکو کی نجکاری کا عمل کیا ہے؟

فیسکو (فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی) کو ملک کی سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والی تقسیم کار کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے، اسی لیے اسے نجکاری کے پہلے مرحلے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ نجکاری کمیشن اب ان سرمایہ کاروں کی شناخت کر رہا ہے جو کمپنی کے انتظام اور آپریشنل کنٹرول کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس عمل کے اہم مراحل:
- پہلا مرحلہ: پری کوالیفکیشن اور ای او آئی جمع کروانا۔
- دوسرا مرحلہ: دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کی جانب سے کمپنی کا آڈٹ (Due Diligence)۔
- تیسرا مرحلہ: حتمی بولی اور اثاثوں کی منتقلی۔

اگرچہ حکومت نے ابھی تک بولی دہندگان کی فہرست جاری نہیں کی ہے، لیکن یہ پیش رفت آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

حکومت نجکاری کیوں کر رہی ہے؟

گزشتہ کئی سالوں سے بجلی کا شعبہ قومی خزانے پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ فیسکو سمیت دیگر ڈسکوز میں انتظامی نااہلی، بجلی کی چوری، اور بلوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے یہ کمپنیاں خسارے کا شکار ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ نجی ملکیت میں آنے کے بعد بہتر انتظامی کنٹرول کے ذریعے بجلی کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے گا اور لائن لاسز میں کمی لائی جا سکے گی۔

صارفین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

اگر آپ بجلی کے صارف ہیں، تو آپ کو ان تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا نجی انتظام بجلی کے نرخوں میں کمی لائے گا یا پھر آپریشنل اخراجات کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جائے گا؟

آئندہ چند ہفتوں میں ان چیزوں پر نظر رکھیں:
1. بولی دہندگان کی حتمی فہرست: نجکاری کمیشن جلد ہی ان کمپنیوں کا اعلان کرے گا جو اگلی بولی میں حصہ لے سکتی ہیں۔
2. نیپرا کا کردار: نجی کمپنی بننے کے بعد بھی فیسکو کو نیپرا کے سخت قوانین اور ٹیرف کے تحت کام کرنا ہوگا۔
3. حکومتی ٹائم لائن: فیسکو کے بعد دیگر ڈسکوز کی نجکاری کے شیڈول پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے آپ نجکاری کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ کو وقتاً فوقتاً دیکھتے رہیں۔ یہ عمل آنے والے وقتوں میں پاکستان کے پاور سیکٹر کی سمت کا تعین کرے گا۔