کانگریس کی سینئر رہنما پرینکا گاندھی نے ہلدوانی میں پیش آنے والے ’شدھی کرن‘ کے واقعے کو بی جے پی اور آر ایس ایس کی پست ذہنیت کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی عوامی تقریر کے بعد اس اسٹیج کو مذہبی رسومات کے ذریعے ’پاک‘ کرنے کی کوشش کی گئی۔
ہلدوانی شدھی کرن واقعہ کی تفصیلات
پارلیمنٹ کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ جس طرح سے اپوزیشن لیڈر کے استعمال کردہ اسٹیج کی صفائی یا شدھی کرن کی گئی، وہ ایک غیر جمہوری اور تنگ نظر رویے کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل نہ صرف سیاسی اخلاقیات کے منافی ہے بلکہ معاشرے میں نفرت پھیلانے کی ایک کوشش ہے۔
- اہم نکات:
- یہ واقعہ ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی ایک بڑی ریلی کے بعد پیش آیا۔
- پرینکا گاندھی نے اس واقعے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے باضابطہ معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
- اپوزیشن اس واقعے کو بی جے پی کی تقسیم کارانہ سیاست کا تسلسل قرار دے رہی ہے۔
سیاسی ردعمل اور اہمیت
اس واقعے نے بھارتی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مذہبی علامتوں کو سیاسی مخالفت کے لیے استعمال کرنا انتخابی ماحول کو مزید تلخ بنا رہا ہے۔ پرینکا گاندھی کی جانب سے 'پست ذہنیت' کے الفاظ کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ کانگریس اس معاملے کو عوامی سطح پر اٹھانے کا تہیہ کر چکی ہے۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید ہنگامہ آرائی متوقع ہے۔ بی جے پی کی جانب سے تاحال اس پر کوئی ٹھوس جواب سامنے نہیں آیا ہے، تاہم اپوزیشن اس ایشو کو پارلیمنٹ سے لے کر گلی کوچوں تک لے جانے کی حکمت عملی بنا رہی ہے۔ آپ کو ان خبروں پر نظر رکھنی چاہیے کہ آیا بی جے پی قیادت اس معاملے میں مقامی کارکنوں کی حمایت کرتی ہے یا اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔
