کانگریس رہنما پرینکا گاندھی واڈرا نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے نوجوانوں سے متعلق حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ Gen-Z in India (بھارت کی نئی نسل) کو کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارتی سیاست میں نوجوانوں کے کردار اور ان کی سوچ پر بحث جاری ہے۔
پرینکا گاندھی کا موقف
پرینکا گاندھی نے زور دیا کہ نوجوان نسل اپنے راستے اور اقدار کا تعین خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ آر ایس ایس کی قیادت کا نظریاتی بیانیہ جدید دور کے نوجوانوں کی حقیقتوں سے میل نہیں کھاتا۔ ان کا یہ ردعمل ان کوششوں کے خلاف ہے جن کے ذریعے قدامت پسند حلقے نوجوانوں کے ثقافتی رجحانات کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔
سیاسی ردعمل اور تنقید
اس معاملے پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے بھی سخت موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موہن بھاگوت واقعی بھارت کے نوجوانوں کی فکر کرتے ہیں تو انہیں حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھانا چاہیے۔ وینوگوپال نے مطالبہ کیا کہ آر ایس ایس سربراہ کو بھارت کے وزیر داخلہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنا چاہیے، کیونکہ موجودہ قیادت نوجوانوں کو درپیش مسائل، خاص طور پر بے روزگاری اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔
یہ بحث کیوں اہم ہے؟
یہ سیاسی بیان بازی اس گہری خلیج کی عکاسی کرتی ہے جو اپوزیشن اور حکمران جماعت کے نظریات کے درمیان موجود ہے۔ جیسے جیسے بھارت میں سیاسی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، نوجوانوں کا ووٹ حاصل کرنا تمام جماعتوں کی ترجیح بن گیا ہے۔ کانگریس خود کو اس نسل کی آواز کے طور پر پیش کر رہی ہے جو روایتی بندشوں کے بجائے خود مختاری کی متلاشی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
سیاسی مبصرین اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آر ایس ایس اور حکمران جماعت اس تنقید کا کیا جواب دیتی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں نوجوانوں کی سیاسی وابستگی اور ان کے حقوق پر بحث مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔ خطے کی سیاست پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ پیش رفت بھارتی سیاسی ماحول کے بدلتے ہوئے رجحانات کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔
