وفاقی حکومت کی جانب سے 1 ملین میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا منصوبہ اس وقت شدید تعطل کا شکار ہو گیا ہے جب پنجاب سمیت دیگر صوبوں نے اس خریداری عمل میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔
پاکستان میں گندم درآمد کرنے کا منصوبہ کیوں تنازع کا شکار ہے؟
پاکستان میں گندم درآمد کرنے کا منصوبہ اس لیے مشکلات کا شکار ہے کیونکہ صوبائی حکومتوں کا مؤقف ہے کہ مقامی سطح پر گندم کے ذخائر ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔ صوبائی حکام نے وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ درآمدی گندم کی خریداری یا ذخیرہ اندوزی میں دلچسپی نہیں رکھتے، کیونکہ اس سے مالی بوجھ بڑھے گا اور مقامی کسانوں کی فصل کی قیمتوں پر منفی اثر پڑے گا۔
کئی مہینوں سے وفاقی حکومت مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور فوڈ سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے درآمد پر غور کر رہی تھی۔ تاہم، صوبوں کا کہنا ہے کہ موجودہ سپلائی چین مستحکم ہے اور مزید درآمدات سے مقامی کسانوں کو نقصان ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے پر پریشان ہیں۔
فوڈ سیکیورٹی اور قیمتوں پر اثرات
اگر وفاقی حکومت صوبوں کی مخالفت کے باوجود 1 ملین ٹن گندم درآمد کرتی ہے تو اسے گوداموں اور تقسیم کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گندم کو ذخیرہ کرنے اور تقسیم کرنے کی ذمہ داری صوبائی محکمہ خوراک کی ہوتی ہے، اور ان کے تعاون کے بغیر وفاقی حکومت اتنی بڑی مقدار میں گندم کا انتظام نہیں کر سکتی۔
عام شہری کے لیے اس تنازع کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کسانوں اور صارفین کے مفادات میں توازن قائم کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ جہاں درآمدات کا مقصد آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا ہوتا ہے، وہیں کسانوں کا ماننا ہے کہ بھرپور فصل کے دوران درآمدات ان کی آمدنی پر براہِ راست حملہ ہے۔
آگے کیا ہونے والا ہے؟
اس صورتحال کے پیش نظر درج ذیل نکات پر نظر رکھیں:
- وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی جانب سے ٹینڈر کی منسوخی یا تبدیلی کے بارے میں کوئی بھی سرکاری نوٹیفکیشن۔
- لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں آٹے کی خوردہ قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں۔
- وفاقی کابینہ اور صوبائی محکمہ خوراک کے درمیان کسی متفقہ لائحہ عمل کے لیے مذاکرات۔
جب تک کوئی اتفاق رائے نہیں ہوتا، وفاقی حکومت کے لیے اپنے درآمدی اہداف کو پورا کرنا مشکل ہوگا۔ اگر آپ زرعی سپلائی چین یا آٹا ملنگ انڈسٹری سے وابستہ ہیں، تو صوبائی محکمہ خوراک کی ویب سائٹس پر خریداری پالیسیوں سے متعلق اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔
