پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کے دوران اس وقت زبردست تیزی دیکھنے میں آئی جب پی ایس ایکس میں ڈھائی ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ٹریڈنگ ہالز میں سرمایہ کاروں کی جانب سے تمام بڑے سیکٹرز میں کھل کر خریداری کی گئی۔ اگر آپ مقامی حصص بازار پر نظر رکھتے ہیں تو آج کا یہ بڑا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مالیاتی اداروں نے محتاط رویہ ترک کرتے ہوئے مارکیٹ میں دوبارہ سرمایہ کاری شروع کر دی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی اصل وجوہات کیا ہیں؟

یہ تیزی کسی ایک شعبے تک محدود نہیں تھی بلکہ مارکیٹ کے تقریباً تمام اہم سیکٹرز میں وسیع پیمانے پر خریداری دیکھی گئی۔ معاشی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے بہتر ہوتے ہوئے رجحان اور خطرے کے احساس میں کمی نے پاکستان جیسے ابھرتے ہوئے بازاروں پر براہ راست مثبت اثر ڈالا ہے۔ اس کے علاوہ، چین کی جانب سے متوقع قرضوں کی ری فنانسنگ کے حوالے سے آنے والی مثبت خبروں نے ملک کے بیرونی مالیاتی دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جب دوست ممالک اور بین الاقوامی ادارے مالی معاونت کے اشارے دیتے ہیں تو مقامی اسٹاک مارکیٹ ہمیشہ مثبت ردعمل ظاہر کرتی ہے۔

کراچی اسٹاک ایکسچینج میں صبح کے وقت گھنٹی بجتے ہی مقامی میوچل فنڈز اور بڑے کارپوریٹ اداروں کی جانب سے خریداری کا تانتا بندھ گیا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے ابتدائی گھنٹوں میں ہی اہم نفسیاتی حدیں عبور کر لیں۔

آپ کی سرمایہ کاری پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟

اگر آپ نے میوچل فنڈز، براہ راست شیয়ারز یا پنشن فنڈز کی صورت میں اسٹاک مارکیٹ میں رقم لگا رکھی ہے تو آج کی اس تیزی سے آپ کے پورٹ فولیو کی مالیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہوگا۔ اگر آپ نقد رقم کے ساتھ مارکیٹ میں داخل ہونے کا سوچ رہے ہیں تو اتنے بڑے انفرادی اضافے کے بعد اندھا دھند خریداری سے گریز کریں۔ ماہرین ہمیشہ اس بات کی تلقین کرتے ہیں کہ تیزی کے اس رجحان میں پھنسنے کے بجائے توانائی اور بینکنگ کے مستحکم اور منافع دینے والے حصص کا انتخاب کریں۔

آپ لائف مارکیٹ ٹিকারز، کمپنیوں کی مالیاتی رپورٹس اور ریگولیٹری اعلانات کی براہ راست جانچ کے لیے اسٹاک ایکسچینج کی آفیشل ویب سائٹ www.psx.com.pk کا وزن کر سکتے ہیں یا اپنے بروکر کے ٹریڈنگ ٹرمینل سے رابطہ رکھیں۔

اب آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

اس تیزی کے پائیدار ہونے کا اصل امتحان آنے والے کارپوریٹ مالیاتی نتائج اور سرکاری بانڈز کی نیلامیوں کے دوران ہوگا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے غیر ملکی سرمایہ کاری کے اعدادوشمار پر کڑی نظر رکھیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ بیرونی فنڈز اس ریلی کا حصہ بن رہے ہیں یا نہیں۔ اگر آنے والے تین سیشنز تک کاروباری حجم بلند رہتا ہے تو یہ ڈھائی ہزار پوائنٹس کا اضافہ عارضی تیزی کے بجائے ایک طویل المدتی بحالی کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اپنی سرمایہ کاری میں ردوبدل کرنے سے پہلے اپنے مالیاتی مشیر سے لازمی مشورہ کریں۔