بدھ، 4 مارچ 2026 کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایک طاقتور بحالی دیکھنے میں آئی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3,100 پوائنٹس سے زائد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ایران میں سفارتی پیشرفت کی امیدوں کے باعث انڈیکس نے 180,000 پوائنٹس کی اہم حد دوبارہ عبور کر لی۔
کراچی اور لاہور کے تجارتی حلقوں میں ٹریڈنگ کا آغاز ہوتے ہی سرمایہ کاروں نے شیئر مارکیٹ کا رخ کیا۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پچھلے چند ہفتوں سے سست روی کا شکار مارکیٹ میں اس سفارتی بہتری نے نئی جان ڈال دی ہے۔ آئل اینڈ گیس، کمرشل بینکنگ اور سیمنٹ کے شعبوں میں خاصی خریداری دیکھی گئی۔
مارکیٹ میں تیزی کی اصل وجوہات
اس اچانک اضافے کی بڑی وجہ ایران کے معاملے پر کشیدگی کم ہونے کی خبریں تھیں۔ فروری کے آخری ہفتے میں سرمایہ کار خطے میں ممکنہ توانائی کے بحران اور سپلائی چین کے مسائل سے خوفزدہ تھے۔ جب یہ خدشات کم ہوئے تو بلیو چپ شیئرز میں اندھا دھند خریداری شروع ہو گئی۔
بدھ کے ٹریڈنگ سیشن کی اہم جھلکیاں یہ رہیں:
- کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3,100 سے زیادہ پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
- انڈیکس نے 180,000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر لی۔
- تمام بڑے سیکٹرز میں بڑے پیمانے پر خریداری دیکھی گئی۔
- گزشتہ دو ہفتوں کے مقابلے میں تجارتی حجم میں نمایاں بہتری آئی۔
آپ کی بچت اور پورٹ فولیو پر اثر
اگر آپ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں میوچل فنڈز، پنشن سکیمیں یا براہ راست شیئرز رکھتے ہیں، تو اس ریکوری کا مطلب ہے کہ آپ کے پورٹ فولیو کو حالیہ گراوٹ سے ہونے والا نقصان کافی حد تک پورا ہو گیا ہے۔ جن چھوٹے سرمایہ کاروں نے گھبراہٹ میں فروخت کرنے کے بجائے صبر کا مظاہرہ کیا، انہیں سستے داموں شیئرز ملنے کا فائدہ ہوا۔
ماہرین مالیات کا مشورہ ہے کہ نئی سرمایہ کاری کرنے سے پہلے ملکی معاشی اشاریوں پر نظر رکھی جائے۔ اگرچہ ایران میں امن کی امیدوں نے مارکیٹ کو سہارا دیا ہے، لیکن مہنگائی کی شرح، اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات اب بھی اہم ترین عوامل ہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
روزانہ کی مارکیٹ رپورٹس اور کمپنیوں کے مالیاتی نتائج کے لیے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی آفیشل ویب سائٹ www.psx.com.pk وزٹ کرتے رہیں۔ آنے والے سیشنز میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا 180,000 کی سطح مستقل سپورٹ بنتی ہے یا نہیں۔ اپنے بروکر کے ساتھ رابطے میں رہیں اور غیر ضروری رسک لینے سے گریز کریں۔
