پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ، 1 نومبر 2024 کو زبردست تیزی دیکھی گئی اور کیس ایس ای 100 انڈیکس توانائی کے شعبے میں ہونے والی آخری لمحات کی خریداری کی بدولت 574 پوائنٹس سے زائد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ مارکیٹ کا بینچ مارک انڈیکس 0.33 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا، جس سے ہفتے کے آغاز میں نظر آنے والا مندی کا رجحان تبدیل ہو گیا۔

کاروباری وقت کے آخری گھنٹوں میں مارکیٹ کے ماحول میں مثبت تبدیلی آئی۔ اگرچہ دن کے پہلے حصے میں مارکیٹ پر فروخت کا دباؤ تھا، لیکن بعد میں ادارہ جاتی خریداروں نے آگے بڑھ کر توانائی اور تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کی۔ اس بڑی تیزی کے باوجود، انڈیکس اپنی اوپری مزاحمتی حد (ریزسٹنس بینڈ) کو عبور کرنے میں ناکام رہا۔

مارکیٹ کے اہم اعداد و شمار

  • انڈیکس کی بندش: کے ایس ای 100 انڈیکس 574.86 پوائنٹس (0.33 فیصد) اضافے کے ساتھ مثبت زون میں بند ہوا۔
  • بڑی وجہ: دن کے آخری حصے میں توانائی کے سستے حصص (بلو چپس) میں اداروں کی جانب سے خریداری۔
  • نمایاں شعبے: آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں اور پاور جنریشن کے حصص میں سب سے زیادہ تیزی دیکھی گئی۔
  • تکنیکی صورتحال: انڈیکس انٹرا ڈے بلندی کے باوجود اپنی قریبی مزاحمتی حد کو توڑنے میں ناکام رہا۔
  • آفیشل پورٹل: سرمایہ کار لائیو ٹریڈنگ ڈیٹا اور کمپنیوں کے اعلانات دیکھنے کے لیے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ویب سائٹ کا وزٹ کر سکتے ہیں۔

مارکیٹ میں تیزی کی اصل وجوہات

جمعہ کی دوپہر کو مارکیٹ کا رخ تبدیل ہونے کی بنیادی وجہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی تھی۔ میکرو اکنامک خدشات اور علاقائی سیاسی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کار پورا ہفتہ محتاط رہے، لیکن کمپنیوں کے بہترین سہ ماہی مالیاتی نتائج نے خریداروں کو دوبارہ متحرک کیا۔

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (OGDC)، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (PPL)، اور پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) جیسے بڑے اداروں کے حصص میں بھاری سرمایہ کاری دیکھی گئی۔ یہ کمپنیاں اس وقت انتہائی پرکشش قیمتوں پر دستیاب ہیں، جس کی وجہ سے مقامی میوچل فنڈز اور انشورنس کمپنیوں نے ہفتے کے اختتام سے قبل ان میں سرمایہ لگانا مناسب سمجھا۔

اس کے علاوہ، سرمایہ کار اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی مانیٹری پالیسی کے فیصلے کا بھی انتظار کر رہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح میں کمی کے بعد شرح سود میں مزید کمی کی توقعات نے مارکیٹ میں جوش و خروش برقرار رکھا ہوا ہے۔

مزاحمتی حد اور مارکیٹ کی حدیں

اگرچہ 575 پوائنٹس کے اضافے سے بروکرز اور سرمایہ کاروں کو ریلیف ملا ہے، لیکن تکنیکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ ابھی پوری طرح خطرے سے باہر نہیں نکلی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس کو اوپری سطح پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جہاں کچھ سرمایہ کاروں نے منافع بخش فروخت (پرافٹ ٹیکنگ) کو ترجیح دی، جس کی وجہ سے انڈیکس اس حد کو عبور نہ کر سکا۔

مارکیٹ میں مستقل تیزی کے لیے ضروری ہے کہ انڈیکس اس مزاحمتی حد سے اوپر بند ہو اور تجارتی حجم (والیم) میں بھی اضافہ ہو۔ عام اور چھوٹے سرمایہ کار اب بھی بجلی کے بھاری بلوں اور مہنگائی کی وجہ سے محتاط انداز اپنائے ہوئے ہیں اور زیادہ تر ٹریڈنگ بڑے اداروں تک محدود ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ

پاکستان کے عام سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسی اتار چڑھاؤ والی مارکیٹ میں جلد بازی سے گریز کریں۔ صرف افواہوں پر چلنے والے سستے اور غیر مستحکم حصص کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ان کمپنیوں کا انتخاب کریں جن کا ٹریک ریکارڈ اچھا ہو اور جو باقاعدگی سے منافع (ڈیویڈنڈ) دیتی ہوں۔

توانائی اور بینکنگ کے شعبے اس وقت بنیادی طور پر مضبوط ہیں۔ اگر آپ سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے ہیں، تو تمام رقم ایک ساتھ لگانے کے بجائے مرحلہ وار (ڈی سی اے فارمولا) سرمایہ کاری کریں۔ اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں اور کمپنیوں کے منافع کے اعلانات پر گہری نظر رکھیں۔

آنے والے دنوں میں کیا دیکھنا ہوگا؟

آنے والے ہفتے میں مارکیٹ کئی اہم ملکی فیصلوں پر ردعمل دے گی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس سب سے اہم ایونٹ ہوگا۔ اگر شرح سود میں مزید کمی کی جاتی ہے تو فکسڈ ڈپازٹس سے پیسہ نکل کر اسٹاک مارکیٹ کا رخ کرے گا۔

اس کے علاوہ، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور گردشی قرضے (سرکولر ڈیٹ) کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات گیس اور بجلی کے شعبے کے حصص کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ سرمایہ کاروں کو ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد و شمار اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے رجحانات پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔