پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس بدھ، 4 مارچ 2026 کو ایک مضبوط تیزی کے رجحان کی طرف لوٹ آیا، جس میں ٹریڈنگ کے اختتام تک 2,931 پوائنٹس کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ معاشی اشاریوں میں بہتری کی امیدوں کے بعد سرمایہ کاروں نے اہم شعبوں میں رقوم کی سرمایہ کاری کے لیے خریداری میں اضافہ کیا۔ کراچی کے ٹریڈنگ فلورز پر کئی ہفتوں کی سست روی کے بعد دوبارہ گہما گہمی دیکھنے میں آئی۔

اسٹاک مارکیٹ کے حالات پر نظر رکھنے والوں کے لیے ایک دن میں اتنی بڑی چھلانگ ایک خوش آئند خبر ہے۔ سرمایہ کار رواں سہ ماہی کے زیادہ تر حصے میں شرح سود کے خدشات اور مہ inflationary دباؤ سے نبرد آزما رہے۔ بدھ کے روز آنے والے اس تیزی کے رجحان نے اس اداسی کو ختم کر دیا، جس کی بنیادی وجہ کمرشل بینکوں، توانائی کے بڑے اداروں اور فرٹیلایزر کے شیئرز میں بڑی خریداری تھی۔

کے ایس ای 100 انڈیکس کی بحالی اور مارکیٹ کی صورتحال

ٹریڈنگ فلور پر اس ڈرامائی اضافے نے کئی شارٹ ٹرم ٹریڈرز کو حیران کر دیا، جس سے psx kse 100 index اہم تکنیکی رکاوٹوں کو عبور کر گیا۔ منگل کے مقابلے میں مارکیٹ کا حجم نمایاں طور پر بڑھا، جو اس بات کی علامت ہے کہ انسٹی ٹیوشنل پلیئرز اور میوچل فنڈز سستے داموں حصص خریدنے میں سرگرم تھے۔ بروکرز کے مطابق یہ تیزی صرف ایک یا دو بڑے شیئرز تک محدود نہیں تھی بلکہ وسیع پیمانے پر خریداری دیکھی گئی۔

یہ بحالی اس بات کی غماز ہے کہ جب سیاسی شور شرابہ کم ہو جائے اور معاشی اعداد و شمار مستحکم ہوں تو پاکستانی ایکوئٹیز میں جذبات کتنی تیزی سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کار اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کو بڑے سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم نفسیاتی سہارا قرار دے رہے ہیں۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ نے لسٹڈ کمپنیوں کے شیئرز لے رکھے ہیں تو صرف ایک دن کی تیزی دیکھ کر اندھا دھند خط مول لینے سے گریز کریں۔ مارکیٹ میں اچانک تیزی کے بعد اکثر بڑے ادارے پرافٹ ٹیکنگ کرتے ہیں، اس لیے محتاط رہیں۔ اپنے پورٹ فولیو کا جائزہ لیں اور دیکھیں آیا آپ کی سرمایہ کاری آپ کے طویل مدتی مالیاتی مقاصد کے مطابق ہے یا نہیں۔

جو لوگ نقد رقم کے ساتھ مارکیٹ میں داخل ہونے کا سوچ رہے ہیں، وہ کسی مصدقہ بروکر سے مشورہ کیے بغیر لیوریج ٹریڈنگ یا غیر مستحکم شیئرز میں ہاتھ نہ ڈالیں۔ کارپوریٹ منافع کے اعلانات اور آنے والے ٹی بلز کی نیلامیوں پر گہری نظر رکھیں تاکہ فکسڈ انکم ییلڈز کے رجحان کا اندازہ ہو سکے۔

آگے کیا دیکھنا ہے

اگلے 48 گھنٹوں کے دوران ٹریڈنگ کے حجم پر نظر رکھیں تاکہ تصدیق ہو سکے کہ خریداری کا یہ مومینٹم برقرار رہتا ہے یا نہیں۔ اگر جمعرات کی دوپہر تک حجم کم ہو گیا تو شارٹ ٹرم ٹریڈرز کی جانب سے منافع سمیٹنے کے باعث مارکیٹ میں تکنیکی تصحیح آ سکتی ہے۔ پالیسی ریٹس سے متعلق مرکزی بینک کے اعلانات کی بھی نگرانی کریں۔

اپنا اگلا مالیاتی فیصلہ کرنے سے پہلے لائیو ٹکرز، کمپنی کے اعلانات اور سیکٹر کے حساب سے ٹرن اوور کی رپورٹس کے لیے آفیشل پورٹل www.psx.com.pk کا وزٹ کریں۔