پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے اپنی ڈیجیٹل نگرانی کو مزید سخت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے 15 لاکھ 40 ہزار یو آر ایل (URLs) کو بلاک کر دیا ہے۔ پی ٹی اے کا یہ کریک ڈاؤن ملک میں ڈیجیٹل مواد کو کنٹرول کرنے اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کا کریک ڈاؤن اور اس کی وجوہات
اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، بلاک کیے گئے مواد میں زیادہ تر مواد اخلاقیات کے منافی، دہشت گردی سے متعلق، اور ملکی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جانے والا مواد شامل ہے۔ پی ٹی اے مسلسل مختلف پلیٹ فارمز کی مانیٹرنگ کر رہی ہے تاکہ ایسے مواد کو روکا جا سکے جو عوامی نظم و نسق یا معاشرتی اقدار کے لیے نقصان دہ ہو۔
اگرچہ پی ٹی اے نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن پلیٹ فارمز سے سب سے زیادہ مواد ہٹایا گیا، لیکن 15.4 لاکھ کی تعداد یہ ظاہر کرتی ہے کہ فیس بک، ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے بڑے پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر صفائی کا عمل جاری ہے۔ عام پاکستانی صارفین کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لنکس یا ویڈیوز اب پاکستان میں دستیاب نہیں ہوں گے۔
ڈیجیٹل رسائی پر اثرات
اس قسم کی سخت پالیسیوں سے ڈیجیٹل آزادی اور سیکیورٹی کے درمیان ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ جب کوئی صارف کسی بلاک شدہ لنک تک رسائی کی کوشش کرتا ہے، تو اسے عام طور پر 'ایکسیس ڈینائیڈ' کا پیغام ملتا ہے۔ یہ کارروائیاں زیادہ تر 'پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ' (PECA) کے تحت کی جاتی ہیں، جس کے تحت پی ٹی اے کو انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز کو کسی بھی غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے کا حکم دینے کا اختیار حاصل ہے۔
اگر آپ کو کسی ویب سائٹ تک رسائی میں مسئلہ درپیش ہو، تو آپ پی ٹی اے کی آفیشل ویب سائٹ pta.gov.pk پر جا کر معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے؟
توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل مواد کے حوالے سے پی ٹی اے کی کارروائیاں مزید تیز ہو سکتی ہیں۔ اتھارٹی اب خودکار سسٹمز کا استعمال کر رہی ہے تاکہ ممنوعہ مواد کی نشاندہی فوری طور پر کی جا سکے۔ آن لائن مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقامی قوانین اور کمیونٹی گائیڈلائنز کا خیال رکھیں تاکہ ان کا مواد بلاک ہونے سے بچ سکے۔
