پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے رواں سال کے پہلے سات مہینوں کے دوران 18 لاکھ 30 ہزار سے زائد غیر قانونی سمز بلاک کر دی ہیں، جو ملک میں ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف جاری جنگ میں ایک بڑا قدم ہے۔ اگر آپ پاکستان میں موبائل فون استعمال کرتے ہیں، تو پی ٹی اے سم بلاک کی یہ تازہ ترین مہم براہ راست آپ کی سیکیورٹی اور رابطوں سے جڑی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سیلولার آپریٹرز کے ساتھ مل کر جعلی سبسکرپشنز کے اس سیاہ کاروبار پر شکنجہ تنگ کر رکھا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ بے شمار نمبرز چوری شدہ یا جعلی شناختی کارڈز پر فعال تھے، جو کہ مالیاتی فراڈ، بھتہ خوروں کی کالز اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

غیر قانونی سمز جرائم کے فروغ کی بڑی وجہ

مجرمانہ گروہ برسوں سے غیر تصدیق شدہ کنکشنز کا استعمال کرتے ہوئے عوام کو جعلی انعامات کا جھانسہ دے رہے ہیں اور ہراساں کرنے کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ جب کوئی جرم کسی فرضی نمبر کے ذریعے کیا جاتا ہے، تو پولیس کے لیے اصل مل تک پہنچنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

  • دھوکہ باز بائیو میٹرک ڈیٹا میں جعلسازی کر کے سمز فعال کرتے ہیں۔
  • غیر ملکی سمز اسمگل کر کے مقامی نگرانی کے نظام کو چکمہ دیا جاتا ہے۔
  • فوت شدہ افراد کے شناختی کارڈز کا غلط استعمال کر کے سمز نکالی جاتی ہیں۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ان چھاپوں میں بھرپور معاونت کی ہے اور متعدد ایسے فرنچائز آپریٹرز کو گرفتار کیا ہے جو پیسوں کی خاطر نادرا کے تصدیقی نظام کو بائی پاس کر رہے تھے۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

انتظامی خرابی کی وجہ سے اچانک اپنا سگنل غائب ہونے کا انتظار نہ کریں۔ ہر شہری کو چاہیے کہ وہ اپنے نام پر درج تمام نمبرز کی خود جانچ پڑتال کرے۔

  • اپنے 13 ہندسوں کا شناختی کارڈ نمبر 6668 پر ایس ایم ایس کریں تاکہ آپ کے نام پر رجسٹرڈ تمام سمز کی فہرست سامنے آ سکے۔
  • اگر فہرست میں کوئی ایسا نمبر نظر آئے جو آپ کا نہیں ہے، تو فوری طور پر متعلقہ فرنچائز جائیں۔
  • پی ٹی اے پورٹل یا اپنے موبائل آپریٹر (جاز، ٹیلینور، زونگ، یوفون) کی ہیلپ لائن کے ذریعے فورا نامعلوم نمبر بلاک کروائیں۔

اگر آپ کے نام پر موجود کوئی فرضی نمبر کسی جرم میں استعمال ہو گیا، تو آپ کو سنگین قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹیلی کام کے شعبے میں آئندہ کیا متوقع ہے؟

آنے والے مہینوں میں لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں موبائل فرنچائزز پر بائیو میٹرک تصدیق کے قوانین مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔ ٹیلی کام ریگولیٹر دکانوں پر سمز کی فروخت کے عمل کو فول پروف بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے حامل چہرہ شناختی آلات کی جانچ کر رہا ہے۔

اگر ٹیلی کام کمپنیاں اپنے ریٹیل نیٹ ورک کی مؤثر آڈٹ کرنے میں ناکام رہیں تو ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ اپنے شناختی دستاویزات کو محفوظ رکھیں، مفت تحائف یا لوڈ کے چکر میں اجنبیوں کو اپنے انگوٹھوں کے نشانات ہرگز نہ دیں، اور وقتاً فوقتاً اپنے ڈیجیٹل ریکارڈ کا جائزہ لیتے رہیں۔