پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے جولائی 2026 تک بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر 1.54 ملین سے زیادہ آن لائن یو آر ایل بلاک کردیے ہیں، جو کہ کئی خودمختار ریاستوں کی کل آبادی سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔ ریگولیٹری اعداد و شمار کے مطابق بلاکنگ کی یہ شرح 89.4 فیصد ہے، یعنی رپورٹ ہونے والے ہر دس میں سے تقریباً نو ویب پتے عام شہریوں کی پہنچ سے دور کردیے گئے ہیں۔

پاکستان میں عام انٹرنیٹ صارف کے لیے یہ سخت ڈیجیٹل فلٹرنگ روزمرہ کی براؤزنگ کی عادات کو بدل رہی ہے۔ چاہے آپ اسٹریمنگ پورٹلز، آزاد خبروں کے اداروں یا سوشل میڈیا کی مخصوص پوسٹس تک رسائی کی کوشش کر رہے ہوں، ریاستی سنسرشپ کا دائرہ کار تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انٹرنیٹ سروس پرووائڈرز (ISPs) اور موبائل نیٹ ورک آپریٹرز ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹر کی ہدایات ملتے ہی ان بلاکس پر فوری عمل درآمد کرتے ہیں۔

پی ٹی اے انٹرنیٹ بلاکنگ کے پیمانے کی حقیقت

بلاک کیے گئے یو آر ایلز کی اتनी بڑی تعداد ملک میں شفافیت اور ڈیجیٹل حقوق کے انتظام پر اہم سوالات اٹھاتی ہے۔ جولائی 2026 تک پی ٹی اے انٹرنیٹ بلاکنگ کے 1.54 ملین کے ہندسے کو عبور کرنے کے بعد، ناقدین کا کہنا ہے کہ مواد ہٹانے والے فلٹرز کا وسیع استعمال اکثر غیر قانونی مواد کے ساتھ ساتھ قانونی گفتگو کو بھی متاثر کرتا ہے۔ 89.4 فیصد ہٹانے کی شرح تمام بڑے ویب ڈومینز اور موبائل ایپلی کیشنز میں نفاذ کے ایک وسیع نظام کو ظاہر کرتی ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کے نگابانوں نے بارہا ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی تفصیلی وضاحت جاری کرے کہ مخصوص صفحات کو پابندی کے لیے کیسے منتخب کیا جاتا ہے۔ تاہم، چھوٹے نیٹ ورکس کے آپریٹرز اور مقامی ٹیک اسٹارٹ اپس اکثر اس وقت ریگولیٹری مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں جب مشترکہ ہوسٹنگ کی وجہ سے ان کے پلیٹ فارمز بھی فلٹرنگ کی زد میں آ جاتے ہیں۔

ایک ڈیجیٹل صارف کے طور پر آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ کو اپنی پسندیدہ ویب سائٹس براؤز کرتے ہوئے اچانک کنکشن میں مسائل یا ڈی این ایس کی خرابی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو امکان ہے کہ آپ ان ریاستی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان حالات میں آپ اپنے ڈیجیٹل معمولات کو اس طرح سنبھال سکتے ہیں:

  • اگر کوئی خاص خبر کا لنک لوڈ نہ ہو تو متبادل اور مصدقہ معلوماتی ذرائع چیک کریں۔
  • ایسے غیر تصدیق شدہ تھرڈ پارٹی طریقوں سے گریز کریں جو آپ کے ذاتی ڈیٹا کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
  • اپنے انٹرنیٹ سروس پرووائڈر کو تکنیکی خرابی کی اطلاع دیں تاکہ تصدیق ہو سکے کہ مسئلہ مقامی ہے یا سرکاری پابندی کا نتیجہ۔

ڈیجیٹل ریگولیشن میں آگے کیا دیکھنا ہے

چونکہ ریگولیٹری ادارے سائبر اسپیس پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں، اس لیے مقامی فری لانسرز، ریموٹ ورکرز اور ٹیک اداروں پر پڑنے والا معاشی اثر ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ آپ کو وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی طرف سے فائر وال اپ گریڈ اور ڈیٹا قوانین سے متعلق آنے والے بیانات پر نظر رکھनी چاہیے۔ ریاستی سیکیورٹی کے تقاضوں اور آزادانہ انٹرنیٹ رسائی کے درمیان توازن کا یہ مباحثہ 2026 کے باقی حصوں میں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو تشکیل دیتا رہے گا۔