پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے جون 2026 کے دوران موصول ہونے والی pta telecom complaints (پی ٹی اے ٹیلی کام شکایات) میں سے 94 فیصد سے زائد کو حل کر کے ان صارفین کو بڑا ریلیف فراہم کیا ہے جو نیٹ ورک کے مسائل اور بلنگ کی بے ضابطگیوں سے پریشان تھے۔

ٹیلی کام ریگولیٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین کارکردگی کے اعداد و شمار کے مطابق، جون 2026 میں مختلف ٹیلی کام آپریٹرز، انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں اور یونیورسل سروس کمپنیوں کے خلاف کل 4,901 شکایات درج کی گئیں۔ ان میں سے اتھارٹی نے مہینے کے آخر تک 4,611 شکایات کو کامیابی سے حل کیا، جو کہ ایک انتہائی فعال ریگولیٹری نگرانی کو ظاہر کرتا ہے۔

شکایات کے حل کی یہ بلند شرح ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستانی موبائل فون صارفین سروس کے معیار، گھروں کے اندر کوریج کے مسائل اور بلنگ میں شفافیت کی کمی کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔

جون 2026 کی ٹیلی کام شکایات کی تفصیلات

جون 2026 میں درج کرائی گئی صارفین کی شکایات کا بڑا حصہ سیلولر موبائل آپریٹرز (CMOs) کے خلاف تھا، جو پاکستان کے ڈیجیٹل رابطوں کے بڑے حصے کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ شکایات مختلف قسم کے مسائل پر مبنی تھیں، جو عام پاکستانی موبائل صارف کی روزمرہ کی مشکلات کی عکاسی کرتی ہیں۔

پی ٹی اے کی جون 2026 کی رپورٹ کے اہم اعداد و شمار درج ذیل ہیں:
- موصول ہونے والی کل شکایات: 4,901
- حل شدہ شکایات: 4,611
- شکایات حل ہونے کی شرح: 94.08%
- زیر التوا شکایات: 290

شکایات کے اہم زمروں میں سروس کی معطلی، انٹرنیٹ کی سست رفتاری، بلنگ کی غلطیاں، صارفین کی مرضی کے بغیر پیکجز کا فعال ہونا اور کسٹمر سروس کا ناقص رویہ شامل تھا۔ مقامی صارفین کے لیے یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ ٹیلی کام کمپنیاں اکثر بہترین کنیکٹیویٹی کا وعدہ کرتی ہیں، لیکن زمین پر ان کی اصل کارکردگی ناقص رہتی ہے، جس کی وجہ سے صارفین ریگولیٹر سے رجوع کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

عام ٹیلی کام شکایات: سست انٹرنیٹ سے لے کر DIRBS کے مسائل تک

پی ٹی اے کے پاس درج کرائی گئی شکایات صرف کال ڈراپس یا سست 4G اسپیڈ تک محدود نہیں ہیں۔ جون 2026 میں موصول ہونے والی pta telecom complaints کا ایک بڑا حصہ ڈیوائس آئیڈنٹی فیکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (DIRBS) سے متعلق مسائل پر بھی مشتمل تھا۔

بہت سے صارفین کو غیر تعمیل شدہ IMEI نمبروں یا کسٹم ڈیوٹی کے مسائل کی وجہ سے اپنے موبائل فون اچانک بلاک ہونے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب مقامی کسٹم سسٹم پی ٹی اے پورٹل کے ساتھ درست طریقے سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتا، تو قانونی طور پر درآمد شدہ فونز بھی بلاک ہو جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ، ڈیجیٹل بینکنگ کے فروغ نے موبائل سیکیورٹی کو انتہائی اہم بنا دیا ہے۔ چوری شدہ شناختی کارڈز پر غیر قانونی سموں کے فعال ہونے کی شکایات کو ریگولیٹر کی جانب سے انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ اگر آپ کو اپنے نام پر غیر مجاز سمیں رجسٹرڈ ملیں، تو آپ کو فوری طور پر متعلقہ آپریٹر کی فرنچائز پر جا کر انہیں بلاک کروانا چاہیے اور آپریٹر کے تعاون نہ کرنے کی صورت میں پی ٹی اے سے رجوع کرنا چاہیے۔

پی ٹی اے میں اپنی شکایت درج کرانے کا طریقہ

اگر آپ کو اپنے موبائل نیٹ ورک یا براڈ بینڈ کنکشن کے ساتھ مسلسل مسائل کا سامنا ہے اور آپ کا آپریٹر جواب نہیں دے رہا، تو آپ براہ راست ریگولیٹر کے پاس اپنی pta telecom complaints درج کرا سکتے ہیں۔ پی ٹی اے صارفین کے مسائل کے حل کے لیے متعدد ذرائع فراہم کرتا ہے۔

شکایت درج کرانے کے لیے ان مراحل پر عمل کریں:
- پہلے اپنے آپریٹر سے رابطہ کریں: پی ٹی اے صرف اسی صورت میں شکایت پر غور کرے گا جب آپ کے پاس پہلے سے اپنے سروس پرووائیڈر (جاز، ٹیلینار، زونگ، یو فون، یا پی ٹی سی ایل) کا شکایت نمبر موجود ہو اور انہوں نے دیے گئے وقت میں اسے حل نہ کیا ہو۔
- پی ٹی اے سی ایم ایس پورٹل استعمال کریں: شکایت کے انتظام کے نظام (CMS) کی آفیشل ویب سائٹ https://complaint.pta.gov.pk/ پر جائیں۔
- پی ٹی اے سی ایم ایس ایپ ڈاؤن لوڈ کریں: گوگل پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹور پر دستیاب یہ موبائل ایپ آپ کو حقیقی وقت میں اپنی شکایت کی صورتحال کو ٹریک کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
- ٹول فری نمبر پر کال کریں: آپ نمائندے سے براہ راست بات کرنے کے لیے 0800-55055 (پیر سے جمعہ، صبح 9:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک) ڈائل کر سکتے ہیں۔
- ضروری تفصیلات فراہم کریں: اپنا شناختی کارڈ نمبر، موبائل نمبر، سروس پرووائیڈر کا نام اور اپنی ابتدائی شکایت کا حوالہ نمبر اپنے پاس رکھیں۔

ایک بار جمع کرانے کے بعد، پی ٹی اے شکایت متعلقہ آپریٹر کو بھیج دیتا ہے اور انہیں مسئلہ حل کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کے لیے سخت وقت دیتا ہے۔

صارفین کی بیداری کیوں ضروری ہے؟

مہنگائی کے اس دور میں عام پاکستانی ان خدمات کے لیے ادائیگی برداشت نہیں کر سکتے جو انہیں فراہم ہی نہیں کی جا رہیں۔ غیر مجاز سروس کٹوتیاں—جہاں ان خدمات کے لیے بیلنس کاٹ لیا جاتا ہے جنہیں صارف نے کبھی سبسکرائب ہی نہیں کیا تھا—ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔

جون 2026 میں شکایات کے حل کی اعلیٰ شرح یہ ظاہر کرتی ہے کہ پی ٹی اے کا شکایت کے انتظام کا نظام انتہائی موثر ہے۔ تاہم، ایک ہی مہینے میں تقریباً 5,000 شکایات کا موصول ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو اپنے کسٹمر سپورٹ سسٹم اور نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

ٹیلی کام کمپنیوں کو جوابدہ بنا کر، صارفین نہ صرف اپنے انفرادی مسائل حل کرواتے ہیں بلکہ ان بڑی کمپنیوں کو کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور جیسے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی اپنے نیٹ ورک کے معیار کو بہتر بنانے پر مجبور کرتے ہیں۔

مستقبل میں کیا توقع کی جائے؟ 5G کا آغاز اور کوالٹی آڈٹس

پاکستان جہاں 5G اسپیکٹرم کی نیلامی کی تیاری کر رہا ہے، وہیں موجودہ 4G نیٹ ورکس کا معیار بھی سخت نگرانی میں ہے۔ پی ٹی اے ڈیٹا کی رفتار، کال سیٹ اپ کی کامیابی کی شرح اور نیٹ ورک کی تاخیر کو ناپنے کے لیے ملک گیر کوالٹی آف سروس (QoS) سروے کر رہا ہے۔

صارفین کو آنے والے سہ ماہی QoS سروے کے نتائج پر نظر رکھنی چاہیے، جو مارکیٹنگ کے دعووں کے بجائے اصل تکنیکی معیارات کی بنیاد پر آپریٹرز کی درجہ بندی کریں گے۔ اگر سیلولر کمپنیاں ان معیارات پر پورا اترنے میں ناکام رہتی ہیں، تو انہیں ریگولیٹر کی طرف سے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے آپ کے روزمرہ کے موبائل تجربے میں واضح بہتری آسکتی ہے۔