پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے اپنے ڈیوائس آئیڈینٹیفیکیشن، رجسٹریشن اور بلاکنگ سسٹم (DIRBS) کو جدید بنانے کے لیے کنسلٹنٹس سے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا استعمال کرتے ہوئے موبائل ڈیوائسز کی رجسٹریشن اور ٹریکنگ کے عمل کو مزید شفاف اور خودکار بنانا ہے۔
ڈرابس (DIRBS) سسٹم میں اے آئی کا استعمال
موجودہ ڈرابس سسٹم کا بنیادی مقصد پاکستان میں غیر قانونی، چوری شدہ یا اسمگل شدہ موبائل فونز کے استعمال کو روکنا ہے۔ اب پی ٹی اے اس سسٹم میں 'ڈیجیٹل انٹیلیجنس' شامل کرنا چاہتی ہے تاکہ ڈیٹا کا تجزیہ ریئل ٹائم میں کیا جا سکے۔ اے آئی کے انضمام سے سسٹم کو مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کرنے اور غلطیوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی، جو کہ انسانی نگرانی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتار ہوگا۔
صارفین پر اس کے اثرات
عام صارفین کے لیے اس اپ گریڈ کا مطلب یہ ہے کہ آئی ایم ای آئی (IMEI) کی تصدیق اور رجسٹریشن کا عمل مزید آسان ہو جائے گا۔ اگرچہ پی ٹی اے نے ابھی تک اس منصوبے کی حتمی تکمیل کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے، لیکن کنسلٹنٹ کی تقرری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت موبائل مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے تحفظ اور قومی سلامتی کے لیے اپنی نگرانی کو سخت کر رہی ہے۔
صارفین کے لیے ضروری ہدایات
اگر آپ کوئی نیا یا درآمد شدہ اسمارٹ فون خرید رہے ہیں، تو اسے پی ٹی اے ڈرابس پورٹل پر لازمی چیک کریں۔ صارفین کو درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
- فون خریدنے سے پہلے اس کا آئی ایم ای آئی نمبر سرکاری پورٹل پر چیک کریں۔
- کسی بھی غیر تصدیق شدہ ویب سائٹ کے ذریعے رجسٹریشن کروانے سے گریز کریں۔
- پی ٹی اے کی جانب سے فیس یا رجسٹریشن کے قواعد و ضوابط میں کسی بھی تبدیلی پر نظر رکھیں۔
مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے؟
آنے والے مہینوں میں سسٹم کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے مزید تفصیلات متوقع ہیں۔ پی ٹی اے کی ویب سائٹ کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں تاکہ آپ کو رجسٹریشن کے نئے طریقوں سے آگاہی رہے۔ یاد رکھیں کہ صرف سرکاری پورٹل ہی ڈیوائس کی قانونی حیثیت کا واحد مستند ذریعہ ہے۔
