پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے شہریوں کو 24 گھنٹے سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک جدید PTA WhatsApp chatbot متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سروس کا مقصد اے آئی (AI) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کی شکایات اور سوالات کے فوری جوابات فراہم کرنا ہے۔
پی ٹی اے واٹس ایپ چیٹ بوٹ کی افادیت
اتھارٹی نے اس سروس کی میزبانی کے لیے پیشہ ورانہ سروس پرووائیڈرز سے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد روایتی شکایتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے تاکہ شہریوں کو ٹیلی کام سے متعلق مسائل کے حل کے لیے طویل انتظار نہ کرنا پڑے۔ چیٹ بوٹ کے ذریعے صارفین موبائل رجسٹریشن، سروس کے معیار اور دیگر ریگولیٹری امور کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں گے۔
پاکستان کے عام صارف کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب کسی بھی ٹیلی کام مسئلے کی شکایت درج کروانا یا اس کا اسٹیٹس جاننا اتنا ہی آسان ہوگا جتنا واٹس ایپ پر پیغام بھیجنا۔ یہ سسٹم خودکار جوابات فراہم کرے گا، جس سے کال سینٹرز پر دباؤ کم ہوگا اور شہریوں کو فوری رہنمائی مل سکے گی۔
اے آئی پر مبنی سپورٹ کیوں ضروری ہے؟
پاکستان میں ڈیٹا کے استعمال میں اضافے کے ساتھ ہی ٹیلی کام صارفین کی شکایات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اے آئی پر مبنی خودکار نظام کے ذریعے پی ٹی اے اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ دفتری اوقات کے بعد بھی شہریوں کی مدد جاری رہے۔ یہ منصوبہ ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دینے کے حکومتی عزم کا حصہ ہے۔
اگرچہ اس سروس کے باضابطہ آغاز کی تاریخ کا اعلان ابھی باقی ہے، تاہم ہوسٹنگ پرووائیڈر کے لیے ٹینڈر کا عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ ایک بار فعال ہونے کے بعد، یہ بوٹ موجودہ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم (CMS) کے ساتھ منسلک ہوگا تاکہ درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔
صارفین کے لیے ہدایات
- پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ (pta.gov.pk) پر تازہ ترین اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔
- اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا موبائل نمبر آپ کے شناختی کارڈ سے رجسٹرڈ ہے، کیونکہ چیٹ بوٹ پر شناخت کی تصدیق کے لیے اس کی ضرورت ہوگی۔
- جب تک واٹس ایپ سروس کا باضابطہ آغاز نہیں ہوتا، اپنے مسائل کے حل کے لیے موجودہ شکایتی پورٹل کا استعمال جاری رکھیں۔
جیسے جیسے پی ٹی اے اس ٹیکنالوجی کو اپنے نظام کا حصہ بنائے گا، یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ چیٹ بوٹ اردو اور علاقائی زبانوں میں بھی مدد فراہم کر سکے گا یا نہیں۔ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ آفیشل اعلان کا انتظار کریں، کیونکہ یہ سروس مستقبل میں ٹیلی کام تنازعات کے حل کا تیز ترین ذریعہ ثابت ہوگی۔
