پاکستان تحریک انصاف آج عمران خان کی رہائی کے لیے ملک بھر میں ایک بڑے احتجاجی سلسلے کا آغاز کر رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے۔ پارٹی قیادت نے پشاور کو اس مہم کا مرکز بنایا ہے جہاں سے تمام سرگرمیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ خیبرپختونخوا کا دارالحکومت اس تحریک کا اہم گڑھ ہے، تاہم پارٹی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ دیگر صوبوں میں بھی کارکن سڑکوں پر نکلیں گے۔ شہر بھر میں ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ پولیس اور انتظامیہ نے اہم شاہراہوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے ہیں۔ اگر آپ کو پشاور یا راولپنڈی میں سفر کرنا ہے تو اپنے شیڈول میں تبدیلی ضرور کریں۔
پشاور کا مرکز اور پنجاب میں رکاوٹیں
پنجاب انتظامیہ نے اپوزیشن کے جلسے اور جلوس کے اجازت نامے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ راولپنڈی انتظامیہ نے لیاقت باغ کے اطراف دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے کنٹینرز لگا دیے ہیں تاکہ کسی بھی اجتماع کو روکا جا سکے۔ لاہور اور اسلام آباد کے داخلی راستوں پر بھی پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود علیمہ خان اور دیگر رہنماؤں نے پشاور اور صوبائی قیادت پر بھروسہ ظاہر کیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سخت ردعمل کے باعث مسافروں کو پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
مظاہروں اور دھرنوں کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا آپ کی اور آپ کے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے ان باتوں کا خیال رکھیں:
- پریس کلبوں، اہم چوراوروں اور سرکاری عمارتوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔
- ٹریفک پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا پیجز سے راستوں کی بندش کی تازہ ترین صورتحال چیک کریں۔
- ضروری اشیاء اور ایندھن کا بندوبست صبح کے وقت ہی کر لیں تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو۔
- اپنا موبائل فون چارج رکھیں اور شناختی کارڈ ہمیشہ ساتھ رکھیں۔
اگلی صورتحال میں کیا دیکھنا ہوگا
آج کے مظاہروں کے بعد ملکی سیاست میں مزید تلخی آنے کا امکان ہے۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا اپوزیشن کارکن حکومتی رکاوٹوں کو توڑ کر ایک جگہ جمع ہونے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ شام تک وزارت داخلہ کی جانب سے گرفتاریوں اور مجموعی امن و امان کی صورتحال پر باضابطہ بیان متوقع ہے۔
