پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے منگل کے روز سپریم کورٹ کے باہر جاری اپنا احتجاج اس وقت ختم کر دیا جب عدالت کے رجسٹرار نے پارٹی کے زیر التواء مقدمات کی جلد سماعت کی یقین دہانی کرائی۔ یہ احتجاج سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت اور پارٹی کے اہم قانونی معاملات میں تاخیر کے خلاف کیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیوں ختم کیا؟
احتجاج کا آغاز منگل کی صبح اسلام آباد کے ریڈ زون میں ہوا، جہاں کارکنوں کی بڑی تعداد نے عدالتی کارروائی میں سستی کے خلاف نعرے بازی کی۔ صورتحال اس وقت پرسکون ہوئی جب سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے پارٹی نمائندوں سے رابطہ کیا اور انہیں یقین دلایا کہ زیر التواء مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد، پارٹی قیادت نے کارکنوں کو پرامن طریقے سے منتشر ہونے کی ہدایت کی۔
قانونی مقدمات کا مستقبل
پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم اب عدالت کے آئندہ کے کاز لسٹ کا انتظار کر رہی ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ عدالتی عمل میں تاخیر سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو رہے۔
- عدالت نے مقدمات کی جلد سماعت کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
- پارٹی وکلاء اب عدالتی تاریخوں کے منتظر ہیں۔
- اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات تاحال برقرار ہیں۔
قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ تازہ ترین صورتحال اور عدالتی کاز لسٹ کے لیے سپریم کورٹ کی آفیشل ویب سائٹ www.supremecourt.gov.pk پر نظر رکھیں۔ اسلام آباد میں ریڈ زون کے قریب جانے والے شہری ٹریفک کی صورتحال کے بارے میں آگاہ رہیں۔ ہم اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا یہ وعدے آئندہ چند روز میں عملی شکل اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔
