تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ ایک حالیہ ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتظامی بہتری اور عوام تک سہولیات کی فراہمی کے لیے ملک میں نئے صوبوں کی ضرورت ہے، تاہم اس عمل کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے ناگزیر ہے۔

پاکستان میں نئے صوبوں کی ضرورت کیوں ہے؟

بیرسٹر گوہر کا موقف ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام سے نچلی سطح پر حکومتی رٹ اور عوامی مسائل کا حل زیادہ بہتر انداز میں ممکن ہو سکے گا۔

  • انتظامی اصلاحات: تحریک انصاف کا ماننا ہے کہ چھوٹے صوبے بہتر گورننس کی ضمانت ہیں۔
  • سیاسی اتفاق رائے: بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ یہ عمل یکطرفہ نہیں ہو سکتا، اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا۔
  • آئینی تقاضے: صوبوں کی حدود میں تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے بغیر کوئی بھی ترمیم ممکن نہیں۔

سیاسی اتفاق رائے کا چیلنج

اگرچہ پی ٹی آئی نے اس معاملے پر اپنی حمایت ظاہر کی ہے، لیکن عملی طور پر یہ ایک پیچیدہ سیاسی معاملہ ہے۔ ماضی میں بھی نئے صوبوں کی بحث زور پکڑتی رہی ہے، لیکن سیاسی مفادات اور صوبائی تعصبات کی وجہ سے یہ معاملہ ہمیشہ کھٹائی میں پڑ جاتا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے اس بات پر زور دیا کہ اگر تمام سیاسی قوتیں ملک کے مفاد میں اکٹھی ہوں تو آئینی عمل کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ تاہم، ابھی تک کسی بھی اپوزیشن یا حکومتی سطح پر باضابطہ قانون سازی کا مسودہ پیش نہیں کیا گیا ہے۔

آئندہ کے امکانات

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا تحریک انصاف اس حوالے سے پارلیمنٹ میں کوئی باضابطہ قرارداد لاتی ہے یا نہیں۔ فی الحال، یہ بیان محض ایک پالیسی موقف کی حیثیت رکھتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر سیاسی جماعتوں کے اگلے اقدامات پر نظر رکھیں، کیونکہ نئے صوبوں کا قیام صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک طویل آئینی عمل کا متقاضی ہے۔