پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر خان نے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کر کے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ 9 اگست 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گوہر خان نے واضح کیا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام اور انتظامی ضرورت
گوہر خان کا کہنا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ طویل عرصے سے کیا جا رہا ہے، اور پی ٹی آئی کی جانب سے اس کی حمایت کا مقصد عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس سے ترقیاتی کاموں کی رفتار میں تیزی آئے گی اور دور دراز علاقوں کے مسائل براہ راست حل ہو سکیں گے۔
آئینی تقاضے اور سیاسی اتفاق رائے
گوہر خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ عمل کسی صدارتی حکم نامے کے بجائے آئینی طریقے سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی نئے صوبے کے قیام کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کا ہونا لازمی ہے۔ یہ آئینی تقاضا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس معاملے پر وسیع تر سیاسی اتفاق رائے قائم ہو، جو کہ ملکی تاریخ میں ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
عوامی سطح پر کیا توقع رکھی جائے؟
اس بحث کے تناظر میں شہریوں کو درج ذیل نکات پر نظر رکھنی چاہیے:
- قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی ممکنہ قانون سازی اور قراردادیں۔
- دیگر سیاسی جماعتوں کا اس معاملے پر ردعمل اور مذاکرات میں دلچسپی۔
- نئے صوبوں کے قیام کے لیے قائم ہونے والی ممکنہ پارلیمانی کمیٹیاں۔
اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں آپ کے ضلع پر کیا اثر ڈالیں گی، تو قومی اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ na.gov.pk پر آنے والے اجلاسوں کی تفصیلات دیکھیں۔ فی الحال، یہ معاملہ صرف ایک سیاسی بیان کی حد تک ہے جسے قانون سازی کا درجہ دینے کے لیے بھاری سیاسی جدوجہد درکار ہوگی۔
