وفاقی حکومت کی جانب سے ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنے کے فیصلے کے ساتھ ہی جمعرات کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کسان ونگ نے ملک میں جاری گندم کے بحران پر ایک جامع وائٹ پیپر جاری کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں جاری ہونے والی اس دستاویز میں ان تمام بنیادی عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے جو زرعی شعبے کی ابتر صورتحال اور گندم بحران کا باعث بنے ہیں۔

مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عام پاکستانی شہری کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے کسان بازو کے درمیان یہ کشمکش آٹے، روٹی اور بنیادی خوراک کی قیمتوں میں عدم استحکام کی نشاندہی کرتی ہے۔ بنیادی مسئلہ حکومتی پالیسیوں کا وہ چکر ہے جہاں مقامی پیداوار کے اہداف بروقت خریداری نہ ہونے کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں اور بعد میں قیمتی زرمبادلہ خرچ کر کے ہنگامی بنیادوں پر درآمدات کرنا پڑتی ہیں۔

گندم بحران کے ذمہ دار بنیادی عوامل

پی ٹی آئی کے وائٹ پیپر میں کسانوں کو درپیش مسائل اور حکومتی اداروں کی غفلت کو تفصیل سے اجاگر کیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق کاشت اور کٹائی کے موسم میں کھاد کی تقسیم کے حوالے سے ناقص منصوبہ بندی اور امدادی قیمتوں کے اعلان میں تاخیر نے کسانوں کا اعتماد متزلزل کیا۔

وائٹ پیپر میں درج اہم نکات درج ذیل ہیں:
- وفاقی اور صوبائی خوراک کے محکموں کی جانب سے گندم کی خریداری میں تاخیر
- کھاد کی قیمتوں میں فرق اور بلیک مارکیٹ میں اس کی فروخت
- چھوٹے کسانوں کو پہنچنے والے مالی نقصانات جو اپنی فصل کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہوئے
- نجی شعبے کی جانب سے ذخیرہ اندوزی جس نے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کی

ان نظامی مسائل کی وجہ سے کسانوں نے اگلی فصل کے لیے رقبہ کم کر دیا، جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خسارے کو پورا کرنے کے لیے اب حکومت کو ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔

حکومت کا گندم درآمد کرنے کا فیصلہ اور مارکیٹ پر اثرات

جہاں اپوزیشن کا کسان ونگ حکومت سے جواب طلبی کر رہا ہے، وہیں اسلام آباد میں پالیسی سازوں کا مؤقف ہے کہ ایک ملین ٹن گندم کی درآمد آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور ملک کے اسٹریٹجک ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اگلی فصل تک مقامی سطح پر قلت کو دور کیا جا سکے گا۔

تاہم منتقدین اور کسان اتحادوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں پر انحصار کرنے سے ان مقامی کاشتکاروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جو پہلے ہی ٹیوب ویلز کے مہنگے بجلی کے بلوں اور درآمدی ادویات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ جب حکومت مقامی کسانوں کو منصفانہ امدادی قیمت دینے کے بجائے بیرونی سپلائرز سے خریداری کرتی ہے تو اس سے دیہی معیشت کو شدید دھچکا لگتا ہے۔

آپ کو آگے کیا کرنا چاہیے

اگر آپ پاکستان میں آٹے کی چکی، تندور یا گھریلو بجٹ کے ذمہ دار ہیں، تو آنے والے ہفتوں میں مقامی مارکیٹ کے نرخوں پر گہری نظر رکھیں۔ افواہوں پر یقین کر کے آٹا ذخیرہ کرنے سے گریز کریں کیونکہ حکومت اسٹریٹجک ذخائر سے آٹا جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اپنے شہر میں صوبائی محکمہ خوراک کی جانب سے سستے آٹے کے کوٹے کے اعلانات کو فالو کریں۔

آگے کن باتوں پر نظر رکھیے

گندم کی نئی درآمدات کی آمد کے شیڈول اور صوبائی وزارتوں کی جانب سے آٹا ملوں کے لیے گندم کے اجراء کی پالیسیوں کا جائزہ لیں۔ کاشت کے اگلے موسم سے پہلے امدادی قیمتوں میں ردوبدل پر نظر رکھیں، کیونکہ اس سے یہ طے ہوگا کہ کسان گندم کاشت کریں گے یا کسی اور منافع بخش فصل کا رخ کریں گے۔