پنجاب نے مون سون کی ریکارڈ بارش کو چھ گھنٹوں سے بھی کم وقت میں صاف کر دیا ہے،Information and Culture Minister عذرا بOKھاری نے جمعرات کو لاہور میں صحافیوں کو بتایا۔ اس دوران لاہور اور راولپنڈی میں سیلاب کا خطرہ تھا۔

صوبائی حکومت نے بارش رک جانے کا انتظار کئے بغیر ہی پمپ اور نکاسی کے عملے کو تعینات کر دیا تھا۔ بOKھاری نے کہا، "ہم نے پہلی بارش پڑتے ہی پانی صاف کرنا شروع کر دیا تھا۔ ہمارے عملے نے مسلسل 24/7 کام کیا تاکہ کسی بھی جگہ پانی نہ ٹھہر سکے۔"

  • بارش کی مقدار: لاہور میں 7 اگست 2025 کی شام 4 بجے سے رات 10 بجے تک تقریباً 150 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
  • متاثرہ علاقے: گلبرگ، ماڈل ٹاؤن، جوہر ٹاؤن، ڈی ایچ اے لاہور؛ راولپنڈی کے پیروادی اور سیٹلائٹ ٹاؤن۔
  • استعمال کئے گئے سامان: 500 سے زائد ہائی کیپسیٹی پمپ، 2000 سے زائد مزدور، اور 150 سے زائد نکاسی کے مشینیں۔
  • لاگت: اس ہفتے پمپوں کے ایندھن اور اوور ٹائم پر اکیلے 35 ملین روپے خرچ کئے گئے۔

بOKھاری کے دعوے کے باوجود نچلے علاقوں میں رہائشیوں کا کہنا ہے کہ نکاسی کے نالے بارش شروع ہوتے ہی overflow ہو گئے۔ لاہور کے ایک رہائشی عائشہ خان نے کہا، "حکومت کی طرف سے فوری ردِ عمل اچھا تھا، لیکن بنیادی ڈھانچہ اس رفتار پر نہیں چل رہا۔" ان کی گلی، علامہ اقبال ٹاؤن، بدھ کی رات تین گھنٹے تک زیرِ آب رہی۔

پنجاب کا نکاسی نظام کیسے کام کرتا ہے — اور کہاں ناکام ہوا

پنجاب کا نکاسی نظام زمین کے اندر بنے سیورز، کھلے نالوں، اور موٹرائزد پمپوں پر انحصار کرتا ہے۔ Punjab Drainage Authority (PDA) صوبے بھر میں 1200 سے زائد پمپ چلاتی ہے، جن میں سے اکیلے لاہور میں 450 پمپ ہیں۔

  • زمین کے اندر بنے سیورز: یہ 50 ملی میٹر فی گھنٹہ بارش کو سنبھالنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ اس سے زیادہ ہونے پر سیورز بیک اپ ہو جاتے ہیں۔
  • کھلے نالے: لاہور میں 23 بڑے نالے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر پلاسٹک کے کچرے اور تعمیراتی ملبے سے بھرے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر، راوی نالہ کو گزشتہ ماہ ہی 1.2 ارب روپے کی صفائی کے بعد صاف کیا گیا تھا۔
  • پمپ: ہائی کیپسیٹی پمپ (فی منٹ 10 ہزار لیٹر) 300 سے زائد اہم مقامات پر نصب ہیں۔ لیکن شدید بارش کے دوران بعض پمپ بجلی کی کٹوتی یا ایندھن کی کمی کی وجہ سے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔

شہر ساز ماہر ڈاکٹر فرخ بشیر نے کہا، "یہ نظام اس لیے ناکارہ ہو رہا ہے کیونکہ ہم wetlands پر تعمیر کر رہے ہیں اور نالوں کو بھر رہے ہیں۔ ہر نئی ہاؤسنگ سوسائٹی جو کسی نالے کو بھر دیتی ہے، بارش کے وقت سیلاب کا شکار ہو جاتی ہے۔"

حکومت کا دعویٰ بمقابلہ رہائشیوں کا مشاہدہ

بOKھاری نے اصرار کیا کہ نظام اپنے مقصد پر پورا اترا۔ انھوں نے کہا، "لاہور میں ہم نے 90 فیصد پانی چھ گھنٹوں میں صاف کر دیا۔ باقی 10 فیصد وہ علاقے ہیں جہاں نالے غیر قانونی قبضوں کی وجہ سے بند تھے۔"

لیکن رہائشیوں اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے ایک مختلف تصویر پیش کی ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ایم پی اے اسد عمر نے ٹوئٹ کیا کہ لاہور کا نکاسی نظام ایک "ٹائم بم" ہے، کیونکہ ان کے حلقے واپڈا ٹاؤن میں گھٹنوں تک پانی بھرا رہا۔

  • پی ٹی آئی کا مطالبہ: نالوں کی صفائی میں تاخیر کی وجہ سے عدالتی تحقیقات کا۔
  • پی ایم ایل این کا جواب: وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نالوں میں غیر قانونی قبضوں پر کارروائی کا حکم دیا ہے۔ ٹیمیں 31 اگست 2025 تک غیر قانونی ڈھانچوں کو ہٹانے کے لئے تعینات ہیں۔

اب کیا ہوگا؟

پنجاب حکومت نے نکاسی نظام کو اپ گریڈ کرنے کے لئے 5 ارب روپے کے ہنگامی فنڈ کا اعلان کیا ہے، جس میں سے 2 ارب روپے اکیلے لاہور کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ ستمبر کے بعد مون سون کا موسم ختم ہونے کے بعد کام شروع ہوگا۔

  • قلیل المدتی: ٹیمیں 15 ستمبر 2025 تک روزانہ نالوں کی صفائی کریں گی۔
  • طویل المدتی: 2026 میں لاہور کے نکاسی نظام کو جدید بنانے کے لئے 15 ارب روپے کا منصوبہ زیرِ غور ہے، جس میں سمارٹ پمپ اور AI پر مبنی سیلاب کی نگرانی شامل ہوگی۔

رہائشیوں کو شک ہے۔ فیصل آباد کے ایک دکان دار عمران ملک نے کہا، "ہمیں پہلے بھی ایسے وعدے سنائے جا چکے ہیں۔ گزشتہ سال سیلاب کے بعد بھی یہی کہا گیا تھا۔ کچھ نہیں بدلا۔"

آپ کیا کر سکتے ہیں

اگر آپ کا علاقہ اس مون سون میں سیلاب کا شکار ہو جائے تو:

  • بند نالوں کی رپورٹ کریں: PDA ہیلپ لائن 042-111-222-732 پر کال کریں یا PDA ایپ (اینڈرائیڈ/آئی او ایس پر دستیاب) استعمال کریں۔ اپنے ساتھ تصاویر اور جی پی ایس کوآرڈینیٹس شامل کریں۔
  • پانی میں گاڑی نہ چلائیں: صرف 30 سینٹی میٹر بہتا پانی بھی آپ کی گاڑی کو بہا سکتا ہے۔ پنجاب ٹریفک پولیس نے اپنی ویب سائٹ پر real-time سیلاب الرٹ بھیجنا شروع کر دیئے ہیں۔
  • اپنے علاقے کی جانچ کریں: بہت سی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے اپنے پرائیویٹ نکاسی نظام ہوتے ہیں۔ اپنے سوسائٹی مینجمنٹ سے پوچھیں کہ کیا انھوں نے اپنے نالے صاف کئے ہیں۔

کیا دیکھنا ہے

  • آئندہ بارش: پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (PMD) نے پیش گوئی کی ہے کہ 12 اگست 2025 کو وسطی پنجاب میں دوبارہ بہت زیادہ بارش ہوگی۔
  • غیر قانونی قبضوں کی کارروائی: لاہور ہائی کورٹ نے 31 اگست 2025 تک تمام نالوں سے غیر قانونی ڈھانچوں کو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔
  • فنڈ کی استعمال: حزبِ اختلاف کی جماعتیں 5 ارب روپے کے فنڈ کے استعمال پر نظر رکھیں گی۔ کسی بھی تاخیر یا بدانتظامی سے احتجاج کا خطرہ ہے۔

پنجاب کی مون سون بارشوں کو سنبھالنے کی صلاحیت اس کے بنیادی ڈھانچے اور سیاسی ارادے کی کامیاب آزمائش ہے۔