وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مون سون کے خطرناک سیزن کے دوران عمارتیں گرنے کے جان لیوا حادثات کو روکنے کے لیے پنجاب بھر میں تمام خستہ حال عمارتوں کا جامع حفاظتی سروے کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ ہدایت جمعہ، 9 اگست 2024 کو لاہور میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی انتظامی جائزہ اجلاس کے دوران دی گئی، جہاں وزیر اعلیٰ نے پرانی رہائشی اور تجارتی املاک کی گرتی ہوئی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

صوبے میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث کمزور ڈھانچوں کے گرنے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے، جو انسانی جانوں کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

پنجاب بلڈنگ سروے کی اہم تفصیلات

- حکم کی تاریخ: جمعہ، 9 اگست 2024
- ہدف کا علاقہ: پنجاب کے تمام 36 اضلاع، جن میں لاہور، ملتان، راولپنڈی اور فیصل آباد جیسے گنجان آباد اور تاریخی شہروں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
- وقت کی حد: انتہائی خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کا کام ابھی سے شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ مکمل فزیکل سروے ستمبر 2024 میں مون سون سیزن کے فوری بعد شروع ہوگا۔
- نگران ادارے: ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشنز، اور لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ (LG&CD) ڈیپارٹمنٹ۔
- رپورٹ درج کرانے کا پورٹل: حکومت پنجاب کا آفیشل پورٹل

مون سون کی بارشیں اور خستہ حال عمارتوں کو لاحق خطرات

پاکستان میں مون سون کا سیزن طویل بارشیں لاتا ہے جس سے مٹی نرم ہو جاتی ہے اور پانی پرانی عمارتوں کی بنیادوں میں سرایت کر جاتا ہے۔ لاہور کے اندرون شہر، پرانے راولپنڈی اور ملتان کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں عمارتیں ایک صدی سے زیادہ پرانی ہیں، جو روایتی چونے، گارے اور لکڑی کے شہتیروں سے بنی ہیں۔

جب چھتوں پر پانی جمع ہوتا ہے تو عمارت پر دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ دیواروں میں نمی آنے سے ان کی سکت ختم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں چھتیں اچانک گر جاتی ہیں۔ ہر سال پنجاب میں بارشوں کے دوران چھتیں گرنے سے درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اس سروے کا مقصد ایسے حادثات کو پیشگی روکنا ہے۔

خستہ حال عمارتوں کے سروے کا طریقہ کار

وزیر اعلیٰ مریم نواز نے مقامی حکومتوں کو منظم طریقے سے سروے کرنے کی ہدایت کی ہے۔ میونسپل افسران اور سٹرکچرل انجینئرز مشکوک عمارتوں کا معائنہ کریں گے اور انہیں خطرے کے لحاظ سے تقسیم کریں گے:

  • جزوی طور پر متاثرہ عمارتیں: وہ املاک جن کی فوری مرمت یا کمزور حصوں کو گرانا ضروری ہے۔
  • انتہائی خطرناک عمارتیں: وہ عمارتیں جو رہائش کے بالکل قابل نہیں رہیں، انہیں فوری طور پر خالی کروا کر مسمار کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ یہ سروے صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہنا چاہیے اور ضلعی انتظامیہ کو کسی بھی سیاسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

شہریوں کے لیے اہم حفاظتی ہدایات

اگر آپ پنجاب میں کسی پرانی یا کمزور عمارت میں رہ رہے ہیں، تو اس مون سون میں درج ذیل احتیاطی تدابیر لازمی اپنائیں:

  • اپنی عمارت کا معائنہ کریں: دیواروں میں گہرے شگاف، چھتوں کا جھکاؤ یا مسلسل نمی نظر آنے پر فوری الرٹ ہو جائیں۔
  • چھتوں سے پانی کا نکاس یقینی بنائیں: چھتوں پر پانی جمع نہ ہونے دیں، کیونکہ کھڑا پانی چھت گرنے کی سب سے بڑی وجہ بنتا ہے۔
  • خطرناک عمارتوں کی اطلاع دیں: اگر آپ کے پڑوس میں کوئی عمارت گرنے کے قریب ہے تو فوری طور پر مقامی اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر یا پنجاب حکومت کے پورٹل punjab.gov.pk پر شکایت درج کرائیں۔
  • انخلا کے احکامات پر عمل کریں: اگر انتظامیہ عمارت خالی کرنے کا نوٹس دے تو ضد نہ کریں اور فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔

آگے کیا ہوگا؟

آنے والے ہفتوں میں لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سروے کے لیے باقاعدہ ضابطہ کار (SOP) جاری کیا جائے گا۔ لاہور، راولپنڈی اور ملتان کی میونسپل کارپوریشنز خطرناک عمارتوں کی فہرستیں عام کریں گی۔

حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان خاندانوں کی متبادل رہائش کا ہوگا جنہیں گھر خالی کرنے کا کہا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت پنجاب ان متاثرہ افراد کے لیے کسی مالی امداد یا متبادل رہائشی پیکج کا اعلان کرتی ہے یا نہیں۔