وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بوتلوں والے پینے کے پانی پر چارجز عائد کرنے کی تجویز کو سرکاری طور پر مسترد کر دیا ہے، جس سے صوبے بھر کے شہریوں کو بڑی ریلیف ملی ہے۔
جمعرات 23 مئی 2024 کو جاری ہونے والے ایک پالیسی بیان میں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صاف پینے کا پانی ایک بنیادی عوامی سہولت ہے اور اسے ٹیکس یا فیس کے ذریعے تجارتی شکل نہیں دی جانی چاہیے۔ یہ تجویز صوبائی یوٹیلیٹی مینجمنٹ کے حوالے سے زیر غور آئی تھی، تاہم حکومت نے اسے عوام کے مفاد میں خارج کر دیا ہے۔
بوتلوں والے پینے کے پانی کی تجویز کیوں مسترد ہوئی؟
صوبائی حکومت نے واٹر فلٹریشن پلانٹس کے آپریشنل اخراجات کو پورا کرنے کے لیے پانی پر فیس لگانے کے امکانات کا جائزہ لیا تھا۔ تاہم، مریم نواز کا موقف تھا کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کم آمدنی والے طبقے کو زندگی کے لیے ضروری وسائل بلا معاوضہ فراہم کرے۔
پنجاب کے گنجان آباد شہروں میں رہنے والے بہت سے شہریوں کے لیے یہ سرکاری فلٹریشن پلانٹس ہی صاف پانی کا واحد ذریعہ ہیں۔ اگر اس پر فیس لگائی جاتی تو مہنگائی کے اس دور میں غریب عوام پر مزید مالی بوجھ پڑتا۔ اس مفت سہولت کو برقرار رکھ کر حکومت کا مقصد پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کرنا اور صحت عامہ کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
صاف پانی تک رسائی پر اثرات
پاکستان میں صاف پانی تک رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ شہری علاقوں میں پائپ لائنوں کے ذریعے آنے والے پانی کے آلودہ ہونے کی شکایات عام ہیں، جس کی وجہ سے لوگ سرکاری فلٹریشن پلانٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے اس فیصلے سے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ:
- موجودہ واٹر فلٹریشن پلانٹس کا نیٹ ورک بغیر کسی فیس کے کام کرنا جاری رکھے گا۔
- صوبائی حکومت ان پلانٹس سے آمدنی حاصل کرنے کے بجائے ان کی دیکھ بھال اور توسیع پر توجہ دے گی۔
- شہریوں کو بنیادی ضروریات کے لیے اضافی اخراجات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے؟
بوتلوں والے پینے کے پانی پر فیس لگانے کی تجویز مسترد ہونے کے بعد اب حکومت کی توجہ موجودہ فلٹریشن پلانٹس کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر مرکوز رہے گی۔ آپ کو اپنے علاقے میں پانی کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے حوالے سے ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے آنے والی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنی چاہیے۔
اگر آپ کے علاقے میں کوئی فلٹریشن پلانٹ خراب ہے یا مرمت کا طلبگار ہے، تو آپ کو مقامی میونسپل آفس یا ضلعی انتظامیہ کو رپورٹ کرنی چاہیے۔ حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ پانی کی فراہمی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ آگے چلتے ہوئے، توجہ نجکاری کے بجائے فلٹریشن ٹیکنالوجی کو جدید بنانے پر رہے گی۔
