محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے تمام 36 اضلاع میں اسکول مینجمنٹ کونسلز (SMCs) کے کھاتوں کی شفافیت جانچنے کے لیے پنجاب اسکول فنڈز آڈٹ کے قواعد مزید سخت کر دیے ہیں۔

صوبائی محکمے نے تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز (DEAs) کے چیف ایگزیکٹو افسران کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام سرکاری اسکولوں میں قائم آڈٹ کمیٹیوں کی تصدیقی رپورٹ اور فنڈز کے اخراجات کی تفصیلات فوری طور پر جمع کروائی جائیں۔

اہم نکات

  • ہدف: پنجاب بھر کے پرائمری، ایلیمنٹری اور ہائی اسکولوں کی اسکول مینجمنٹ کونسلز۔
  • حکمنامہ جاری کنندہ: محکمہ اسکول ایجوکیشن، حکومت پنجاب۔
  • نگران افسران: تمام اضلاع کی ایجوکیشن اتھارٹیز کے سی ای اوز۔
  • لازمی اقدام: آڈٹ کمیٹیوں کی تشکیل کی توثیق اور اخراجات کے واؤچرز کی فزیکل جانچ۔
  • شامل فنڈز: نان سیلری بجٹ (NSB)، مرمتی فنڈز، یوٹیلیٹی بلز اور تدریسی سامان کی خریداری۔

سخت آڈٹ نظام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

پنجاب بھر کے سرکاری اسکولوں کو روزمرہ اخراجات، عمارتوں کی مرمت، پینے کے صاف پانی کے انتظامات اور سفیدی وغیرہ کے لیے نان سیلری بجٹ کے تحت خطیر فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ رقوم براہ راست اسکول کونسل کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہوتی ہیں۔

محکمے کے حالیہ جائزوں میں یہ بات سامنے آئی کہ متعدد اسکولوں میں فنڈز کے استعمال کی جانچ پڑتال کے لیے آزاد آڈٹ کمیٹیاں یا تو غیر فعال تھیں یا سرے سے تشکیل ہی نہیں دی گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں فنڈز کے مبہم استعمال اور ناقص مرمتی کاموں کی شکایات سامنے آ رہی تھیں۔ نئے احکامات کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایک ایک روپیہ طالب علموں کی سہولیات پر ہی خرچ ہو۔

آڈٹ کمیٹیوں کے اختیارات اور طریقہ کار

نئی گائیڈ لائنز کے مطابق ہر اسکول میں تین سے پانچ ارکان پر مشتمل داخلی آڈٹ کمیٹی کا فعال ہونا لازمی ہے، جو ہیڈ ماسٹر یا پرنسپل سے الگ رہ کر کھاتوں کی پڑتال کرے گی۔

کمیٹی کی بنیادی ذمہ داریوں میں درج ذیل امور شامل ہیں:

  • اسٹاک کی جسمانی تصدیق: خریدا گیا فرنیچر، اسٹیشنری اور لیب کا سامان اسکول میں عملاً موجود ہونا چاہیے۔
  • کوٹیشنز کی جانچ: سامان کی خریداری میں کم از کم تین دکانداروں کی شفاف کوٹیشنز کا ریکارڈ ہو۔
  • بلز اور واؤچرز کی تصدیق: ہر خرچ کے ساتھ مجاز ٹیکس انوائس یا بل منسلک ہو۔
  • بینک ریکارڈ: کونسل کی قرارداد کے مطابق ہی بینک سے رقم کا اخراج کیا گیا ہو۔

آڈٹ کمیٹیوں کی تشکیل میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ (PEEDA Act) کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اسکول سربراہان اور والدین کے لیے ہدایات

سرکاری اسکولوں کے ہیڈز کو چاہیے کہ وہ معائنہ ٹیموں کی آمد سے قبل تمام کیش بکس، چیک بکس کے کاؤنٹر فائلز اور خریداری کے بلز مکمل اور دستخط شدہ رکھیں۔

کونسل کے ارکان اور والدین کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اسکول کے مالی معاملات میں اپنا جمہوری کردار ادا کریں۔ اگر کسی مد میں فنڈز کے غلط استعمال کا شبہ ہو تو متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر یا محکمہ اسکول ایجوکیشن کی ہیلپ لائن پر فوری رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

اگلے مراحل

آئندہ ہفتے سے اسسٹنٹ ایجوکیشن افسران اور مانیٹرنگ ٹیمیں اسکولوں کا اچانک دورہ شروع کریں گی۔ آڈٹ ریکارڈ پیش نہ کرنے والے اسکولوں کی اگلی این ایس بی قسط روک دی جائے گی۔ سرکاری مراسلے اور پورٹل کی تفصیلات schools.punjab.gov.pk پر دستیاب ہیں۔