پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے رجسٹرڈ مساجد کے رجسٹرڈ آئمہ مسز کے لیے جاری مالیاتی امدادی پروگرام کے تحت 9 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم تقسیم کر دی ہے۔ اس اہم اقدام کا مقصد لاہور سے لے کر جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں تک خدمات سر انجام دینے والے مذہبی رہنماؤں کو براہ راست مالی ریلیف فراہم کرنا ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ فنڈز شفاف ڈیجیٹل ذرائع سے براہ راست مستحقین کے اکاؤنٹس میں منتقل کیے جاتے ہیں تاکہ انتظامی تاخیر سے بچا جا سکے۔

امام اعزازیہ پروگرام کے لیے اہلیت کا معیار کیا ہے؟

اس سرکاری پروگرام میں شامل ہونے کے لیے محکمہ اوقاف و مذہبی امور کے ذریعے باضابطہ کاغذات کی تصدیق کرانا لازمی ہے۔ صرف وہی مساجد اس اسکیم کا حصہ بن سکتی ہیں جو باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں اور جن کی انتظامی کمیٹیوں کی تصدیق کی جا چکی ہو۔

  • مساجد کے پاس قانونی دستاویزات اور واضح انتظامی ڈھانچہ ہونا ضروری ہے۔
  • امام کے پاس تصدیقی شناختی کارڈ اور فعال بینک اکاؤنٹ کا ہونا لازمی ہے۔
  • جعلی اندراجات سے بچنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ذریعے فزیکل تصدیق کی جاتی ہے۔

مہنگائی کے دور میں مالی ریلیف

زیادہ تر مستحقین کے لیے یہ ماہانہ وظیفہ بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں اور مہنگائی کے طوفان کے خلاف ایک اہم ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ مقامی چندہ محلاتی حالات کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، لیکن سرکاری مدد ان علماء کو بنیادی معاشی تحفظ فراہم کرتی ہے جن کے پاس عام طور پر پینشن یا ہیلتھ انشورنس کی سہولت نہیں ہوتی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے معاشرے کے اس اہم طبقے میں غربت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کے محلے کی مسجد اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا پائی تو آپ کو فوری طور پر قریبی ضلعی محکمہ اوقاف کے دفتر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسجد کے تمام کاغذات، کمیٹی کی قرارداد اور امام کا شناختی کارڈ اپ ڈیٹ ہو تاکہ آڈٹ کے دوران کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرناپڑے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اس بات پر نظر رکھیے کہ آیا حکومت ماہانہ وظیفے کی رقم میں اضافے کا ارادہ رکھتی ہے یا نہیں۔ عوامی نمائندگان کی طرف سے مسلسل مطالبات کے بعد آئندہ بجٹ میں اس اعزازیے میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔