پنجاب فوڈ اتھارٹی (PFA) نے ایم ٹو موٹروے کے سکھیکی انٹرچینج پر واقع معروف فوڈ چینز کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن کیا ہے، جہاں صفائی کے انتہائی ناقص انتظامات پائے گئے۔ اس اچانک کارروائی کے دوران کل 5 نامور فوڈ آؤٹ لیٹس پر چھاپے مارے گئے، جن میں سے 4 کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا جبکہ حفظان صحت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 35 لاکھ روپے کے بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے۔

سکھیکی انٹرچینج پر چھاپے کی تفصیلات

موٹروے پر سفر کرنے والے مسافر اکثر ان فوڈ آؤٹ لیٹس سے کھانا خریدتے ہیں، مگر حالیہ انسپیکشن کے دوران جو کچھ سامنے آیا وہ انتہائی تشویشناک تھا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی انفورسمنٹ ٹیم نے جب سکھیکی انٹرچینج پر قائم ان معروف برانڈز کے کچن اور اسٹوریج ایریاز کا معائنہ کیا تو وہاں مبینہ طور پر مضر صحت اشیاء اور صفائی کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی دیکھی گئی۔ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ کارروائی میں بتایا گیا کہ کل 5 مشہور فوڈ چینز اس چھاپے کی زد میں آئیں، جن میں سے 4 کو موقع پر ہی سیل کر دیا گیا تاکہ عوام کی صحت مزید خطرے میں نہ پڑے۔

موٹروے فوڈ سیفٹی اور جرمانے

مسافروں کے لیے ہائی ویز پر قائم فوڈ پوائنٹس پر معیار کی جانچ پڑتال انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ہزاروں خاندان روزانہ ان ہوٹلوں اور ریسٹورانٹس پر رکتے ہیں۔ پی ایف اے حکام کے مطابق، حفظان صحت کے طے شدہ قواعد و ضوابط پر عمل نہ کرنے پر ان اداروں کو کل 35 لاکھ روپے کا جرمانہ کیا گیا ہے۔ فوڈ اتھارٹی کے اس اقدام کا مقصد موٹروے پر سفر کرنے والے شہریوں کو معیاری اور خوراک کے بنیادی اصولوں پر پورا اترنے والی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ یا آپ کا خاندان اکثر موٹروے کا سفر کرتا ہے اور سکھیکی یا دیگر انٹرچینجز پر کھانا کھاتا ہے، تو آپ کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ باہر کے کھانوں پر مکمل بھروسہ کرنے کے بجائے ممکن ہو تو گھر کا کھانا ساتھ رکھیں یا پھر آرڈر کرتے وقت آؤٹ لیٹ کی صفائی کا خود جائزہ لیں۔ آپ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی آفیشل ویب سائٹ (pfa.gop.pk) یا ان کے ہیلپ لائن نمبر پر کسی بھی غیر معیاری فوڈ پوائنٹ کی فوری شکایت درج کرا سکتے ہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

اس کارروائی کے بعد پنجاب فوڈ اتھارٹی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک بھر کی دیگر موٹرویز مثلاً لاہور-اسلام آباد ایم ٹو اور لاہور-عبدالحکیم ایم تھری کے تمام ریسٹورانٹس اور فوڈ کورٹس کی باقاعدگی سے نگرانی جاری رکھے۔ آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ پی ایف اے موٹروے کے دوسرے انٹرچینجز پر بھی ایسے ہی چھاپے مارے گی تاکہ ہوٹل مالکان میں خوف پیدا ہو اور وہ عوام کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق خوراک فراہم کریں۔